ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 443 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 443

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴۳ جلد اول ۱۲ را پریل ۱۹۰۰ء حضرت اقدس امام همام علیہ الصلوۃ والسلام کی دلی آرزو اور تمنا حضرت اقدس کی دلی آرزو رہتی ہے کہ ہمارے ابا کو بیاں دار الامان میں باربار آنے کا موقع ملے اور اس طرح پر یہاں رہ کر ہر ایک شخص کو اپنے تزکیۂ نفس اور تصفیہ باطنی اور تجلیہ روح کے لئے عملی ہدایتیں مل سکیں ۔ اس غرض کے پورا کرنے کے لئے آپ نے سال میں تین جلسے مقرر کر رکھے ہیں ۔ عیدین اور بڑے دن کی تعطیلوں میں ۔ روئداد جلسہ عیدالاضحیہ درج ذیل ہے۔ آنحضرت اور مسیح موعود کی عیدالاضحیہ سے مناسب فرمایا۔ آج عید الضحی کا دن ہے اور یہ عید ایک ایسے مہینے میں آتی آتی ہے جس پر اسلامی مہینوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یعنی پھر محرم سے نیا سال شروع ہوتا ہے۔ یہ ایک سر کی بات ہے کہ ایسے مہینہ میں عید کی گئی ہے جس پر اسلامی مہینہ کا یا زمانہ کا خاتمہ ہے۔ اور یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس کو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آنے والے مسیح سے بہت مناسبت ہے۔ وہ مناسبت کیا ہے؟ ایک یہ کہ ہمارے نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آخر زمانہ کے نبی تھے اور آپ کا وجود باجود اور وقت بعینہ گو یا عید اضحی کا وقت تھا چنانچہ یہ امر مسلمانوں کا بچہ بچہ بھی جانتا ہے کہ آپ نبی آخر الزمان تھے اور یہ مہینہ بھی آخر الشہور ہے اس لیے اس مہینہ کو آپ کی زندگی اور زمانہ سے مناسبت ہے۔ دوسری مناسبت۔ چونکہ یہ مہینہ قربانی کا مہینہ کہلاتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حقیقی قربانیوں کا کامل نمونہ دکھانے کے لئے تشریف لائے تھے۔ جیسے آپ لوگ بکری ، اُونٹ، گائے ، دُنبہ ذبح کرتے ہو ایسا ہی وہ زمانہ گزرا ہے کہ آج سے تیرہ سو سال پیشتر خدا تعالیٰ کی راہ میں انسان ذبح ہوئے۔ حقیقی طور پر عید اضحی وہی تھی اور اُسی میں صحی کی روشنی تھی ۔ یہ قربانیاں اس کا لب نہیں پوست ہیں۔ روح نہیں جسم ہیں۔ اس سہولت اور قربانی کی حقیقت آرام کے زمانہ میں ہی خوشی سے عید ہے آرام کے زمانہ میں ہنسی خوشی سے عید ہوتی ہے اور عید کی انتہا ہنسی خوشی