ملفوظات (جلد 1) — Page 36
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶ جلد اول جو صدق وصفا آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا مقام یا آپ کے صحابہ کرام به نے دکھایا اس کی نظیر کہیں نہیں ۔ جان دینے تک دریغ نہ کیا۔ حضرت عیسی کو کوئی مشکل کام نہ تھا اور نہ مفید ہی کوئی الہام تھا۔ چند برادری کے لوگوں کو سمجھانا کون سا بڑا کام ہے۔ یہودی تو توریت پڑھے ہی ہوئے تھے، ایمان لانے والے تھے ، خدا کو وحدہ لاشریک جانتے ہی تھے تو بعض وقت یہ خیال آ جاتا ہے کہ مسیح کرنے ہی کیا آئے تھے۔ یہودیوں میں تو توحید کے لئے اب بھی غیرت پائی جاتی ہے۔ نہایت کار یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید اخلاقی نقص تھے لیکن تعلیم تو توریت میں موجود ہی تھی۔ باوجود اس سہولت کے کہ قوم اس کتاب کو مانتی تھی مسیح نے وہ کتاب سبقاً سبقاً ایک استاد سے پڑھی تھی۔ اس کے مقابل ہمارے سید و مولی بادی کامل اتنی تھے۔ ان کا کوئی استاد بھی نہ تھا اور یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ مخالف بھی اس امر سے انکار نہ کر سکے ۔ سو حضرت عیسی کے لئے دو آسانیاں تھیں ۔ ایک تو برادری کے لوگ تھے جو بھاری بات منوانی تھی وہ پہلے ہی مان چکے تھے۔ ہاں کچھ اخلاقی نقص تھے لیکن با وجود اتنی سہولت کے حواری درست نہ ہوئے۔ لالچی رہے۔ حضرت عیسیٰ اپنے پاس روپیہ رکھتے تھے۔ بعض چوریاں بھی کرتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں ۔ لیکن ہم حیران ہیں کہ اس کے کیا معنے ہیں ۔ جب گھر بھی ہو اور مکان بھی ہو اور مال میں گنجائش اس قدر ہو کہ چوری کی جاوے تو پتہ بھی نہ لگے ۔ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ دکھانا یہ منظور ہے کہ باوجود ان تمام سہولتوں کے کوئی اصلاح نہ ہو سکی۔ پطرس کو بہشت کی کنجیاں تو مل جاویں لیکن اپنے استاد کولعنت دینے سے نہ رک سکے ۔ اب مقابلہ میں انصاف دیکھا جاوے کہ ہمارے بادی اکمل کے صحابہ نے اپنے خدا اور رسول کے لئے کیا کیا جان شاریاں کیں، جلا وطن ہوئے ظلم اٹھائے ، طرح طرح کے مصائب اٹھائے ، جانیں دے دیں لیکن صدق و وفا کے ساتھ قدم مارتے ہی گئے ۔ پس وہ کیا بات تھی کہ جس نے انہیں ایسا جان شار بنا دیا۔ وہ سچی الہی محبت کا جوش تھا جس کی شعاع ان کے دل میں پڑ چکی تھی ۔ سوخواہ کسی نبی