ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 35

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵ جلد اول کو سلسلہ موسویہ محمدیہ میں مماثلت قرآن میں رسول اکرم صلی الہ علیہ وسلم و میل موسی قرار دے کر فرمایا انَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل (۱۶) یعنی ہم نے ایک رسول بھیجا جیسے موسی کو فرعون کی طرف بھیجا تھا۔ ہمارا رسول مثیل موسی ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور : ۵۶) اس مثیل موسیٰ کے خلفاء بھی اسی سلسلہ سے ہوں گے جیسے کہ موسیٰ کے خلفاء سلسلہ وار آئے ۔ اس سلسلہ کی میعاد چودہ سو برس تک رہی برابر خلفاء آتے رہے۔ یہ ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئی تھی کہ جس طرح سے پہلے سلسلہ کا آغاز ہوا ویسے ہی اس سلسلہ کا آغاز ہوگا ۔ یعنی جس طرح موسیٰ نے ابتدا میں جلالی نشان دکھلائے اور فرعون سے چھڑایا ، اس طرح آنے والا نبی بھی موسیٰ کی طرح ہوگا ۔ فَكَيْفَ تَتَّقُونَ اِنْ كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيْبَا - السَّمَاءُ مُنْفَطِرُ بِهِ كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًا (المزمل: ۱۹،۱۸) یعنی جس طرح ہم نے موسی کو بھیجا تھا سو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کفار عرب بھی فرعونیت سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ بھی فرعون کی طرح باز نہ آئے جب تک انہوں نے جلالی نشان نہ دیکھ لیا۔ سو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کام موسیٰ کے کام کے سے تھے ۔ اس موسی کے کام قابل پذیرائی نہ تھے لیکن قرآن نے منوایا ۔ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں گو فرعون کے ہاتھ سے نجات ( بنی ) اسرائیل کو ملی لیکن گناہوں سے نجات نہ پائی ۔ وہ لڑے اور کج دل ہوئے اور موسیٰ پر حملہ آور ہوئے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری پوری نجات دی ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اگر طاقت ، شوکت سلطنت اسلام کو نہ دیتے تو مسلمان مظلوم رہتے اور نجات کفار کے ہاتھ سے نہ پاتے۔ سو اللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ نجات دی کہ مستقل اسلامی سلطنت قائم ہوگئی ۔ دوسرا یہ کہ گنا ہوں سے ان کو نجات ملی ۔ خداوند تعالیٰ نے خود ہر دو نقشہ کھینچے ہیں کہ عرب پہلے کیا تھے اور پھر کیا ہوئے۔ اگر دونو نقشے اکٹھے کئے جاویں تو ان کی پہلی حالت کا اندازہ لگ جاوے گا۔ سو اللہ تعالیٰ نے دونو نجاتیں دیں ۔ شیطان سے بھی نجات دی اور طاغوت سے بھی ۔ ۱۴