ملفوظات (جلد 1) — Page 422
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲۲ جلد اول اور اپنے دوستوں میں مشترک جانتے ہیں اور بڑی آرزو ہے کہ مل کر چند روز گزارہ کر لیں ۔ اور فرمایا ۔ میری بڑی آرزو ہے کہ ایسا مکان ہو کہ چاروں طرف ہمارے احباب کے گھر ہوں اور درمیان میرا گھر ہو اور ہر ایک گھر میں میری ایک کھڑکی ہو کہ ہر ایک سے ہر ایک وقت واسطہ و رابطہ رہے۔ تکلفات میں وقت ضائع کرنا حضور کو نا پسند تھا۔ اس کے متعلق حضور نے فرمایا۔ وقت کی قدر میرا تو یہ حال ہے کہ پاخانہ اور پیشاب پر بھی مجھے افسوس آتا ہے کہ اتناوقت ضائع جاتا ہے یہ بھی کسی دینی کام میں لگ جائے اور فرمایا۔ کوئی مشغولی اور تصرف جو دینی کاموں میں حارج ہو اور وقت کا کوئی حصہ لے مجھے سخت ناگوار ہے۔ اور فرمایا۔ جب کوئی دینی ضروری کام آ پڑے تو میں اپنے اوپر کھانا پینا اور سونا حرام کر لیتا ہوں جب تک وہ کام نہ ہو جائے ۔ فرمایا۔ ہم دین کے لئے ہیں اور دین کی خاطر زندگی بسر کرتے ہیں۔ بس دین کی راہ میں ہمیں کوئی روک نہ ہونی چاہیے۔ خدمت گزاری ایک دفعہ نئے مکان میں چار پائی پڑی ہوئی تھی جس پر مولوی عبدالکریم صاد ا صاحب سو رہے تھے۔ وہاں حضور ٹہل رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد جاگا تو دیکھا کہ حضور فرش پر چار پائی کے نیچے لیٹے ہوئے ہیں ۔ مولوی صاحب ادب سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ حضور نے بڑی محبت سے پوچھا کہ کیوں اٹھ کھڑے ہوئے؟ انہوں نے پاس ادب کا عذر کیا۔ اس پر حضور نے فرمایا۔ میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔ لڑکے شور کرتے تھے انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آوے۔ خاکساری لوگوں کو حضور سے بات کرنے میں کمال آزادی تھی اور ہر شخص بلا روک ٹوک حضور سے بات چیت کر سکتا تھا۔ اس بارے میں حضور نے فرمایا کہ میرا یہ مسلک نہیں کہ میں ایسا تند خو اور بھیانک بن کر بیٹھوں کہ لوگ مجھ سے ایسے ڈریں جیسے درندہ سے ڈرتے ہیں اور میں بت بننے سے سخت نفرت رکھتا ہوں ۔ میں تو بت پرستی کے رد کرنے کو آیا ہوں نہ یہ کہ میں خود بت بنوں اور لوگ میری پوجا کریں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میں اپنے نفس کو