ملفوظات (جلد 1) — Page 398
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۸ جلد اول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہی پر یہ ہوتی ہے کہ سب نبی مر گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا کہ ابھی نہیں مرے اور تلوار کھینچ کر کھڑے ہو جاتے ہیں مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر یہ خطبہ پڑھتے کہ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران: ۱۴۵) اب اس موقع پر جو ایک قیامت ہی کا میدان تھا کہ رض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور کل صحابہ جمع ہیں۔ یہاں تک کہ اسامہ کا لشکر بھی روانہ نہیں ہوا۔ حضرت عمرؓ کے کہنے پر حضرت ابوبکر بآواز بلند کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور اس پر استدال کرتے ہیں مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُول سے ۔ اب اگر صحابہ کے وہم و گمان میں بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی ہوتی تو ضرور بول اٹھتے مگر سب خاموش ہو گئے اور بازاروں میں یہ آیت پڑھتے تھے اور کہتے تھے کہ گویا یہ آیت آج اتری ہے۔ معاذ اللہ صحابہ منافق نہ تھے جو وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رعب میں آ کر خاموش ہورہے اور حضرت ابوبکر کی تردید نہ کی۔ نہیں اصل بات یہی تھی جو حضرت ابوبکر نے بیان کی اس لئے سب نے گردن جھکالی ۔ یہ ہے اجماع صحابہ کا ۔ حضرت عمر بھی تو یہی کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آئیں گے۔ اگر یہ استدلال کامل نہ ہوتا ( اور کامل تب ہی ہوتا کہ کسی قسم کا استثنا نہ ہوتا کیونکہ اگر حضرت عیسی زندہ آسمان پر چلے گئے تھے اور انہوں نے پھر آنا تھا تو پھر یہ استدلال کیا یہ تو ایک مسخری رض ہوتی ) تو خود حضرت عمر ہی تردید کرتے ۔ ا جبکہ آیت میں استثنا نہ تھا اور امر واقعہ یہی تھا۔ اس لئے سب حضرت ابوبکر" کا فہم قرآن صحابہ صحابہ نے بالا تفاق اس امر کو تسلیم کر لیا اور حضرت ابو بکر جن کو قرآن شریف کا یہ فہم ملا تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدة: (۴) پڑھی تو حضرت ابوبکر رو پڑے۔ کسی نے پوچھا کہ یہ بڑھا کیوں روتا ہے تو آپ نے کہا کہ مجھے اس آیت سے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی بو آتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام بطور حکام کے ہوتے ہیں۔ جیسے بندوبست کا ملازم جب اپنا کام کر چکتا ہے تو