ملفوظات (جلد 1) — Page 397
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۷ جلد اول مار کھانے کے قابل ہوتی ہیں۔ سب عدالتیں قرآن شریف کی تعلیم کے موافق کھلی رہ سکتی ہیں۔ اگر انجیل کے مطابق کریں تو آج ہی سب کچھ بند کرنا پڑے اور پھر دیکھو کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ انسان انجیلی تعلیم پر عمل نہیں کر سکتا ۔ پس یہ دو نمو نے علمی اور عملی تقویٰ کے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے سوا تیسری قسم تقویٰ کی ہے يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ کلام الہی پر ایمان با انسان قوت عبارت کا ان کے ای یار یار دراسات (البقرۃ: ۵) انسان قوت شہادت کا محتاج ہے۔ ایسی راہ اختیار نہ کرے کہ پاک شہادتوں سے دور ہو۔ وہ راہ خطرناک راہ ہے جس میں راستبازوں کی شہادتیں موجود نہیں ہیں ۔ تقویٰ کی راہ یہی ہے کہ جس میں زبردست شہادتیں ہر زمانہ میں زندہ موجود ہوں ۔ مثلاً تم نے راہ پوچھا کسی نے کچھ کہا کہ یہ راہ فلاں طرف جاتا ہے مگر دس کہتے ہیں کہ نہیں یہ تو فلاں طرف جاتا ہے تو اب تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ان بھلے مانس آدمیوں کی بات مان لو۔ یا درکھو کہ شہادت پاکبازوں کی ہی مقبول اور موزوں ہوتی ہے۔ بد معاشوں کی شہادت کبھی مقبول نہیں ہو سکتی۔ یہ تیسری قسم تقویٰ کی ہے جو يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ میں بیان ہوئی ہے۔ اس کو چھوڑ کر بھی لوگ بہت خراب ہوتے ہیں ۔ ہمارے ساتھ جو لوگوں نے مخالفت کی ہے تو اسی وجہ سے کہ انہوں نے تقویٰ کی اس قسم کو چھوڑ دیا ہے۔ - خدا ہے۔ وہ إِنِّي وفات مسیح خدا تعالی کا کلام میں آیتوں میں ہمارا مؤید ہے۔ بھی وہ یعنی اپنی مُتَوَقِيكَ (ال عمران: ۵۶) کہہ کر کبھی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کہہ کر کبھی مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران: ۱۴۵) کہہ کر ۔ غرض کبھی کسی پیرایہ میں کبھی کسی صورت میں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہی راہ سچی ہے جس پر ہم بفضلہ تعالیٰ قائم ہیں اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح کو حضرت یحیی کے ساتھ معراج میں دیکھتے ہیں ۔ اور یہ پکی بات ہے کہ ان دونوں میں کوئی خاص فرق جو زندوں اور مردوں میں ہونا چاہیے نہیں بتایا۔ کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عمر بتا کر یہ شہادت دیتے ہیں کہ وہ مر گیا اور کبھی آنے والے مسیح موعود اور اسرائیلی مسیح کا حلیہ جدا جدا بتا کر سمجھاتے ہیں کہ وہ مر گیا۔ یہ شہادتیں تو حدیث اور قرآن کی ہیں۔ اس کے علاوہ تمام صحابہ کی شہادت