ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 389

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۹ جلد اول اس میں جو کچھ وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ پورا ہو گیا ۔ جسمانی رفع کے قائل اس میں کچھ کہ نہیں سکتے مگر مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب تین ترتیبوں کے وہ قائل ہیں اور انہیں نے اس کو تسلیم کر لیا ہے تو توفی کے لفظ کو اُٹھانے کی بے فائدہ کوشش کیوں کرتے ہیں؟ بھلا یہ یہودی سیرت اختیار کر کے بتاؤ تو سہی اس لفظ کو رکھو گے کہاں؟ اگر رفع کے بعد رکھو تو واقعات خارجہ کے خلاف ہے۔ رفع اور تطہیر میں فاصلہ نہیں ہے، بلکہ رفع کے بعد تطہیر ہی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے اس الزام سے کہ وہ نبی بھی نہیں مانتے تھے اور ملعون قرار دیتے تھے اور عیسائی کہتے تھے کہ ابن اللہ اور اللہ ہیں جس کو آسمان پر اٹھایا گیا اور وہ ہمارے لئے ملعون ہوا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بری کیا ہے۔ یہ دو انگلیوں کی طرح ہیں اُن کو الگ کر سکتے ہی نہیں۔ اور جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ کو دیکھو تو وہ قیامت تک مُطَهَّرُكَ کے بعد کسی دوسرے لفظ کو آنے ہی نہیں دیتا پھر اس کو رکھو گے تو کہاں رکھو گے۔ جس طرح پر واقعات ظہور میں آئے اسی طرز سے بیان کیا ہے۔ اب اُلٹ پلٹ کر کہاں رکھ سکتے ہو۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ تمہیں خدا تعالیٰ کے کلام کے ساتھ اس قدر دشمنی کیوں ہے جو اس کی ترتیب کو توڑ نا چاہتے ہو۔ عقیدہ حیات مسیح کے نقصانات کی تم کو یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ سینے کی خدائی ثابت کرو؟ عیسائیوں کے اس مردہ خدا کو کہیں تو مرنے دو۔ تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو تم کہتے ہو کہ ہم مسیح کو محض ایک بندہ اور نبی مانتے ہیں دوسری طرف اُن کی نسبت ایسے عقیدے رکھنے چاہتے ہو جو ان کو خدا بناتے ہیں۔ اس کی وہی مثال ہے کہ ایک شخص تو کسی کی نسبت کہتا ہے کہ وہ مر گیا مگر دوسرا کہتا ہے کہ نہیں مرا تو نہیں مگر نبض اُس کی نہیں چلتی ۔ بدن بھی ٹھنڈا ہو گیا ہے۔ سانس بھی نہیں آتا۔ اے دانشمند و ! غور تو کرو اس کے مرنے میں کیا شک رہا جس کی زندگی کا کوئی بھی اثر نہیں پایا جاتا۔ کہتے ہو مسیح خدا نہیں مگر مانتے ہو کہ وہ آج تک زندہ ہے اور زمانہ کے اثر سے محفوظ اور لاتبدیل