ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 31

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱ جلد اول یہ ایک تقویٰ کی شاخ ہے جس کے ذریعہ ہمیں غضب نا جائز کا مقابلہ کرنا ہے۔ بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لئے آخری اور کڑی منزل غضب سے ہی بچنا ہے۔ عجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے اور ایسا ہی کبھی خود غضب عجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ غضب اس وقت ہوگا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں ۔ خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔ یہ ایک قسم کی تحقیر ہے اور جس کے اندر حقارت ہے ڈر ہے کہ یہ حقارت بیچ کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جاوے۔ بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں۔ لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے، اس کی دل جوئی کرے، اس کی بات کی عزت کرے ، کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ ۚ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (الحجرات : ۱۲) تم ایک دوسرے کے چڑ کے نام نہ ڈالو ۔ یہ فعل فساق و فجار کا ہے۔ جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اسی طرح مبتلا نہ ہو گا۔ اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔ جب گل ایک ہی چشمہ سے پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے ۔ مکرم و معظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہو سکتا ۔ خدا کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (الحجرات : ۱۴) یہ جو خلف ذاتی ہیں یہ کوئی وجہ شرفت خدا تعالی یہ جو مختلف ذاتیں ہیں یہ کوئی وجہ شرافت نہیں۔ خدا تعالیٰ نے محض عرف کے ذاتوں کا امتیاز لئے یہ ذاتیں بنائیں اور آج کل تو صرف بعد چار پشتوں کےحقیقی پتہ لگانای مشکل ہے۔ متقی کی شان نہیں کہ ذاتوں کے جھگڑے میں پڑے۔ جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا کہ میرے نزدیک ذات کوئی سند نہیں حقیقی مکرمت اور عظمت کا باعث فقط تقوی ہے۔ سیمی متقی متقی کون ہیں؟ خدا کے کام سے پیا جاتا ہے کہ شیوہ ہوتے ہیں جعلی اورسینی سے چلتے ہیں۔ وہ مغرورا نہ گفتگو نہیں کرتے۔ ان کی گفتگو ایسی ہوتی ہے جیسے چھوٹا بڑے