ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 30

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰ جلد اول کو خیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو لیکن اگر حفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یا د رکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہوگی ۔ اسلامی تعلیم کیا پاک تعلیم ہے کہ جس نے مرد و عورت کو الگ وہ چیز تباہ ہو رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی جس سے یورپ نے آئے دن کی خانہ جنگیاں اور خود کشیاں دیکھیں۔ بعض شریف عورتوں کا طوائفا نہ زندگی بسر کرنا ایک عملی نتیجہ اس اجازت کا ہے جو غیر عورت کو دیکھنے کے لئے دی گئی ۔ اللہ تعالیٰ نے جس قدر قوی عطا فرمائے وہ ضائع انسانی قومی کی تعدیل اور جائز استعمال کرنے کے لیے نہیں دیئے گئے ان کی تعدیل اور جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشو و نما ہے۔ اس واسطے اسلام نے قوائے رجولیت یا آنکھ کے نکالنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ ان کا جائز استعمال اور تزکیہ نفس کرایا۔ جیسے فرما یا قد اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (المؤمنون:۲) اور ایسے یہاں بھی کہا۔ متقی کی زندگی کا نقشہ کھینچ کر آخر میں بطور نتیجہ یہ کہا وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقرة :٢) یعنی وہ لوگ جو تقویٰ پر قدم مارتے ہیں ۔ ایمان بالغیب لاتے ہیں۔ نماز ڈگمگاتی ہے پھر اسے کھڑا کرتے ہیں۔ خدا کے دیئے سے دیتے ہیں۔ باوجود خطرات نفس بلا سوچے گذشتہ اور موجودہ کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور آخر کار وہ یقین تک پہنچ جاتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت کے سر پر ہیں ۔ وہ ایک ایسی سڑک پر ہیں جو برابر آگے کو جا رہی ہے اور جس سے آدمی فلاح تک پہنچتا ہے۔ پس یہی لوگ فلاح یاب ہیں جو منزل مقصود تک پہنچ جاویں گے اور راہ کے خطرات سے نجات پا چکے ہیں۔ اس لئے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے ہم کو تقوی کی تعلیم کر کے ایک ایسی کتاب ہم کو عنایت کی جس میں تقویٰ کے وصایا بھی دیئے ۔ نہیں۔ سو ہماری جماعت یہ غم کل دنیوی غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائیں کہ ان میں تقویٰ ہے یا اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کرو اہل تقویٰ کے لئے یہ شرط تھی کہ وہ غربت اور مسکینی میں اپنی زندگی بسر کرے۔