ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 379 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 379

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۹ جلد اول جو اس کے حق میں مضرت بخش ہے تو وہ اس کو فی الفور منظور کرلے۔ نہیں بلکہ وہ اس کو رد کر دیتا ہے اور اس کے بجائے اس سے بھی بہتر اس کو عطا کرتا ہے اور وہ یقیناً سمجھ لیتا ہے کہ یہ میری فلاں دعا کا اثر اور نتیجہ ہے۔ اپنی غلطی پر بھی اس کو اطلاع ملتی ہے۔ غرض یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ متقیوں کی بھی بعض دُعا قبول نہیں ہوتی ۔ نہیں اُن کی تو ہر دعا قبول ہوتی ہے ۔ ہاں اگر وہ اپنی کمزوری اور نادانی کی وجہ سے کوئی ایسی دعا کر بیٹھیں جو ان کے لئے عمدہ نتائج پیدا کرنے والی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس دعا کے بدلہ میں اُن کو وہ چیز عطا کرتا ہے جو اُن کی شے مطلوبہ کا نعم البدل ہو۔ متقی کون ہوتے ہیں؟ اب اس کے بعد پھر میں اصل مطلب کی طرف آتا ہو اور بہتاتا ہوں کہ متقی کون ہوتے ہیں؟ در حقیقت متقیوں کے واسطے بڑے بڑے وعدے ہیں اور اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ اللہ متقیوں کا ولی ہوتا ہے۔ جھوٹے ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ ہم مقرب بارگاہ الہی ہیں اور پھر متقی نہیں ہیں بلکہ فسق و فجور کی زندگی بسر کرتے ہیں اور ایک ظلم اور غضب کرتے ہیں جبکہ وہ ولایت اور قرب الہی کے درجہ کو اپنے ساتھ منسوب کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ مشتقی ہونے کی شرط لگا دی ہے۔ پھر ایک اور شرط لگاتا ہے یا یہ کہو متقیوں کا ایک نشان بتاتا ہے إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا - نصرت خدا اُن کے ساتھ ہوتا ہے یعنی اُن کی نصرت کرتا ہے جو شقی ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی معیت کا ثبوت اس کی نصرت ہی سے ملتا ہے۔ پہلا دروازہ ولایت کا ویسے بند ہوا۔ اب دوسرا دروازہ معیت اور نصرت الہی کا اس طرح پر بند ہوا۔ یا درکھو اللہ تعالیٰ کی نصرت کبھی بھی نا پاکوں اور فاسقوں کو نہیں مل سکتی ۔ اس کا انحصار تقوی ہی پر ہے۔ خدا کی اعانت متقی ہی کے لئے ہے۔ معاشی وسعت پھر ایک اور راہ ہے کہ انسان مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتا ہے اور حاجات مختلفہ رکھتا ہے۔ اُن کے حل اور روا ہونے کے لیے بھی تقویٰ ہی کو اصول قرار دیا ہے۔ معاش کی تنگی اور دوسری تنگیوں سے راہ نجات تقویٰ ہی ہے۔ فرمایا۔ مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَ يَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: ۳، ۴) متقی کے لئے ہر مشکل ۔ سے