ملفوظات (جلد 1) — Page 378
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۸ جلد اول غرض وہ تو ہم کو نبوت کے کمالات تک دینے کو طیار ہے لیکن ہم اس کے لینے کی بھی سعی کریں۔ پس یا درکھو کہ یہ شیطانی وسوسہ اور دھوکا ہے جو اس پیرا یہ میں دیا جاتا ہے کہ دعا قبول نہیں ہوئی۔ اصل یہی ہے کہ وہ دعا قبولیت کے آداب اور اسباب سے خالی محض ہے۔ پھر آسمان کے دروازے اس کے لئے نہیں کھلتے ۔ سنو ! قرآن شریف نے کیا کہا ہے اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدة: ۲۸) اللہ تعالیٰ متقیوں کی دُعائیں قبول کرتا ہے۔ جو لوگ مشتقی نہیں ہیں ان کی دُعائیں قبولیت کے لباس سے ننگی ہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور رحمانیت ان لوگوں کی پرورش میں اپنا کام کر رہی ہے۔ متقی کی بعض دعاؤں کے حسب منشا پورا نہ ہونے کی حکمت دعاؤں کی قبولیت کا فیض ان لوگوں کو ملتا ہے جو شقی ہوتے ہیں۔ اب میں بتاؤں گا کہ متقی کون ہوتے ہیں ۔ مگر ابھی میں ایک اور شبہ کا ازالہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بعض لوگ جو متقی ہوتے ہیں بظاہر ان کی بعض دعائیں اُن کے حسب منشا پوری نہیں ہوتی ہیں یہ کیوں ہوتا ہے؟ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ان لوگوں کی کوئی بھی دعا در حقیقت ضائع نہیں جاتی لیکن چونکہ انسان عالم الغیب نہیں ہے اور وہ نہیں جانتا کہ اس دعا کے نتائج اس کے حق میں کیا اثر پیدا کرنے والے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کمال شفقت اور مہربانی سے اس دعا کو اپنے بندہ کے لئے اس صورت میں منتقل کر دیتا ہے جو اس کے واسطے مفید اور نتیجہ خیز ہوتی ہے ۔ جیسے ایک نادان بچہ سانپ کو ایک نرم اور خوبصورت شے سمجھ کر پکڑنے کی جرات کرے یا آگ کو روشن دیکھ کر اپنی ماں سے مانگ بیٹھے تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ماں خواہ وہ کیسی ہی نادان سے نادان بھی کیوں نہ ہو کبھی پسند کرے گی کہ اُس کا بچہ سانپ کو پکڑے یا اپنی خواہش کے موافق آگ کا ایک روشن کوئلہ اُس کے ہاتھ پر رکھ دے؟ ہر گز نہیں ۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ یہ اُس کی زندگی کو گزند پہنچائے گا۔ پس اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب اور عالم الکل ہے اور مہربان ماں سے بھی زیادہ رحیم کریم ہے اور ماں کے دل میں بھی یہ رافت اور محبت اُسی نے ڈالی ہے وہ کیوں کر گوارا کر سکتا ہے کہ اگر اس کا عزیز بندہ اپنی کمزوری اور غلطی اور نا واقفی کی وجہ سے کسی ایسی چیز کے لئے دعا کر بیٹھے