ملفوظات (جلد 1) — Page 376
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۶ جلد اول کو جان بھی دینی پڑے تو فوق العادت استقلال اُس کو ملتا ہے اور وہ بدوں کسی قسم کا رنج یا حسرت محسوس کیے اپنا سر رکھ دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ بار بار مجھے زندگی ملے اور بار بار اس کو اللہ کی راہ میں دوں ۔ ایک ایسی لذت اور سرور ان کی روح میں ہوتا ہے کہ ہر تلوار جو اُن کے بدن پر پڑتی ہے اور ہر ضرب جو اُن کو پیس ڈالے، اُن کو پہنچتی ہے وہ اُن کو ایک نئی زندگی ، نئی مسرت اور تازگی عطا کرتی ہے۔ یہ ہیں شہید کے معنی ۔ پھر یہ لفظ شہد سے بھی نکلا ہے۔ عبادت شاقہ جو لوگ برداشت کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں ہر ایک تلخی اور کدورت کو جھیلتے ہیں اور جھیلنے کے لیے طیار ہو جاتے ہیں ۔ وہ شہد کی طرح ایک شیرینی اور حلاوت پاتے ہیں اور جیسے شہد فِيهِ شِفَاء لِلنَّاسِ (النحل : ۷۰) کا مصداق ہے۔ یہ لوگ بھی ایک تریاق ہوتے ہیں۔ اُن کی صحبت میں آنے والے بہت سے امراض سے نجات پا جاتے ہیں۔ اور پھر شہید اس درجہ اور مقام کا نام بھی ہے جہاں انسان اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے یا کم از کم خدا کو دیکھتا ہوا یقین کرتا ہے۔ اس کا نام احسان بھی ہے۔ صالح چوتھا درجہ صالحین کا ہے۔ جن کو مواد رڈ یہ سے صاف کر دیا گیا ہے اور اُن کے قلوب صاف ہو گئے ہیں۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب تک مواد رڈ یہ دور نہ ہوں اور سوء مزاج رہے تو مزہ زبان تک کا بھی بگڑ جاتا ہے، تلخ معلوم دیتا ہے اور جب بدن میں پوری صلاحیت اور اصلاح ہو اس وقت ہر ایک شے کا اصل مزہ معلوم ہوتا ہے اور طبیعت میں ایک قسم کی لذت اور سرور اور چستی اور چالا کی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح پر جب انسان گناہ کی ناپاکی میں مبتلا ہوتا ہے اور روح کا قوام بگڑ جاتا ہے پھر روحانی قوتیں کمزور ہونی شروع ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ عبادات میں مزہ نہیں رہتا۔ طبیعت میں ایک گھبراہٹ اور پریشانی پائی جاتی ہے۔ لیکن جب مواد رڈ یہ جو گناہ کی زندگی سے پیدا ہوئے تھے تو بۃ النصوح کے ذریعہ خارج ہونے لگیں تو روح میں وہ اضطراب اور بے چینی کم ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ آخر ایک سکون اور تسلی ملتی ہے۔ پہلے جو گناہ کی طرف قدم اُٹھانے میں راحت محسوس ہوتی تھی اور پھر اسی فعل میں جو نفس کی خواہش کا نتیجہ ہوتا تھا اور جھکنے میں خوشی ملتی