ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 375 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 375

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۵ جلد اول جب تک انسان نہ پہنچے اس وقت تک اُسے پیشگوئی کی قوت نہیں مل سکتی اور یہ درجہ اُس وقت حاصل ہوتا ہے جبکہ انسان قرب الہی حاصل کرے۔ قرب الہی کے لئے یہ ضروری بات ہے کہ تَخَلَّقُوا بأخلاق اللہ پر عمل ہو کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کی صفات کو ملحوظ خاطر رکھ کر اُن کی عزت نہ کرے گا اور اُن کا پر تو اپنی حالت اور اخلاق سے نہ دکھائے وہ خدا کے حضور کیوں کر جا سکتا ہے۔ مثلاً خدا کی ایک صفت قدوس ہے۔ پھر ایک نا پاک، غلیظ ، ہر قسم کے فسق و فجور کی ناپا کی میں مبتلا انسان اللہ تعالیٰ کے حضور کیوں کر جا سکتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے تعلق کیوں کر پیدا کر سکتا ہے۔ غرض اس دعا میں اول منعم علیہ گروہ کے کمال مراتب کے حصول کی دعا ہے۔ پس جب تک انسان اپنے اندرونی سلسلہ خیالات کو چھوڑ کر انا الْمَوْجُود کی آواز نہ سنے دعاؤں میں لگا ر ہے۔ یہ کمال تام کا درجہ ہوتا ہے۔ پھر دوسرا مرتبہ صدیق کا ہے ۔ صدق کامل اس وقت تک جذب نہیں ہوتا جب تک صدیق تو بتہ النصوح کے ساتھ صدق کو نہ کھنچے۔ قرآن کریم تمام صداقتوں کا مجموعہ اور صدق تام ہے۔ جب تک خود صادق نہ بنے صدق کے کمال اور مراتب سے کیوں کر واقف ہو سکتا ہے۔ صدیق کے مرتبہ پر قرآن کریم کی معرفت اور اس سے محبت اس کے نکات و حقائق پر اطلاع ملتی ہے کیونکہ کذب کذب کو کھینچتا ہے، اس لیے کبھی بھی کاذب قرآنی معارف اور حقائق سے آگاہ نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۸۰) فرمایا گیا ہے۔ شہر پھر تیسرا مرتبہ شہید کا ہے۔ عام لوگوں نے شہید کے معنی صرف یہی سمجھ رکھے ہیں کہ جوشخص شہید لڑائی میں مارا گیا یا دریا میں ڈوب گیا یا وبا میں مر گیا وغیرہ ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ اسی پر اکتفا کرنا اور ا اور اسی حد تک اس کو محدود رکھنا مومن کی شان سے بعید ہے۔ شہید اصل میں وہ شخص ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ سے استقامت اور سکینت کی قوت پاتا ہے اور کوئی زلزلہ اور حادثہ اس کو متغیر نہیں کر سکتا۔ وہ مصیبتوں اور مشکلات میں سینہ سپر رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر محض خدا تعالیٰ کے لئے اُس الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ ء صفحه ۱ تا ۴