ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 353

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۳ جلد اول اور چیزوں اور حاکموں اور افسروں اور دشمنوں اور دوستوں کی قوت اور طاقت پیچ ہو کر انسان صرف اللہ کو دیکھتا ہے اور اس کے سوائے سب اس کی نظروں میں بیچ ہو جاتے ہیں پس وہ شجاعت اور بہادری کے ساتھ کام کرتا ہے اور کوئی ڈرانے والا اس کو ڈرا نہیں سکتا۔ فراست فرمایا ۔ فراست بھی ایک چیز ہے جیسا کہ اس یہودی نے دیکھتے ہی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ دیا کہ میں ان میں نبوت کے نشان پاتا ہوں اور ایسا ہی مباہلہ کے وقت عیسائی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہ آئے کیونکہ ان کے مشیر نے ان کو کہہ دیا تھا کہ میں ایسے مونہہ دیکھتا ہوں کہ اگر وہ کہیں پہاڑ کو کہیں گے کہ یہاں سے ٹل جا تو وہ ٹل جائے گا۔ فرمایا۔ اگر کسی کے باطن میں کوئی حصہ روحانیت کا ہے تو وہ مجھ کو قبول کرے گا۔ ایک کتاب لکھنے کی خواہش فرمایا کہ میں چاہتاہوں کہ ایک کتاب تعلیم کی کھوں اور مولوی محمد علی صاحب اس کا ترجمہ کریں ۔ اس کتاب کے حصے ہوں گے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہمارے کیا فرائض ہیں اور دوسرے یہ کہ اپنے نفس کے کیا کیا حقوق ہم پر ہیں اور تیسرے یہ کہ بنی نوع کے ہم پر کیا کیا حقوق ہیں؟ ولود اولیاء کی کرامات مشہورہ فرمایا۔ زمانہ نبوت و نور علی نور تھا اور ایک آفتاب تھا لیکن اس کے بعد کے اولیاؤں کے جو خوارق وکرامات بتلائے جاتے ہیں وہ اپنے ساتھ انکشاف نہیں رکھتے اور ان کی تاریخ کا صحیح پتا نہیں لگ سکتا۔ چنانچہ شیخ عبدالقادر جیلانی کے کرامات ان کے دوسو سال بعد لکھے گئے اور علاوہ اس کے ان لوگوں کو یہ موقع مقابلہ دشمن کا نہیں ملا اور نہ ان کو ایسا فتنه در پیش آیا جیسا کہ ہم کو۔ ایسی ہی باتوں پر سیر کا وقت ختم ہوا اور روحوں کو ایک تازگی حاصل ہوئی ۔ اور لوقا کے بارہ میں تحقیق کی ضرورت اس کے بعد اور قاری ظہر و عصرکی نمازمیں ہمارے ساتھ شامل ہوئے اور مغرب سے عشاء کے پڑھ چکنے تک