ملفوظات (جلد 1) — Page 352
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۲ جلد اول لکھا ہے سَافَرْتُ إِلى رُوْمِ وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ مَا تُومِ میں روم کو روانہ ہوا اور میں ایک ایسے اونٹ پر سوار ہوا جس کا پیشاب بند تھا۔ یہ الفاظ صرف قافیہ بندی کے واسطے لائے گئے ہیں ۔ یہ قرآن شریف کا اعجاز ہے کہ اس میں سارے الفاظ ایسے موتی کی طرح پروئے گئے ہیں اور اپنے اپنے مقام پر رکھے گئے ہیں کہ کوئی ایک جگہ سے اُٹھا کر دوسری جگہ نہیں رکھا جا سکتا اور کسی کو دوسرے لفظ سے بدلا نہیں جا سکتا۔ لیکن باوجود اس کے قافیہ بندی اور فصاحت و بلاغت کے تمام لوازم موجود ہیں ۔ ایک شخص نے کسی صوفی گدی نشین کی کلمہ طیبہ کے بغیر حقیقی شجاعت پیدا نہیں ہوتی تعریف کی کرده آری بظاہر یک معلوم کہ ہوتا ہے اور اگر اس کو سمجھایا جاوے تو اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ اس بات کو پا جاوے اور عرض کی کہ میرا اس کے ساتھ ایک ایسا تعلق ہے کہ اگر حضور مجھے ایک خط ان کے نام لکھ دیں تو میں لے جاؤں اور امید ہے کہ ان کو فائدہ ہو۔ فرمایا ۔ آپ دو چار دن اور یہاں ٹھہریں۔ میں انتظار کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ خود بخود استقامت کے ساتھ کوئی بات دل میں ڈال دے تو میں آپ کو لکھ دوں ۔ پھر فرمایا کہ جب تک ان لوگوں کو استقامت ، حسن نیت کے ساتھ چند دن کی صحبت نہ حاصل ہو جاوے تب تک مشکل ہے۔ چاہیے کہ نیکی کے واسطے دل جوش مارے اور خدا کی رضا کے حصول کے لیے دل تر ساں ہو۔ اس شخص نے عرض کی کہ ان لوگوں کو اکثر یہ حجاب بھی ہوتا ہے کہ شاید کسی کو معلوم ہو جاوے تو لوگ ہمارے پیچھے پڑ جاویں۔ فرمایا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایسے لوگ لا اله الا اللہ کے قائل نہیں ہوتے اور سچے دل سے اس کلمہ کو زبان سے نکالنے والے نہیں ہوتے ۔ فرمایا۔ جب زید و بکر کا خوف درمیان میں ہے تب تک لا إِلهَ إِلَّا الله کا نقش دل میں نہیں جم سکتا۔ فرمایا۔ یہ جو رات دن مسلمانوں کو کلمہ طیبہ کہنے کے واسطے تائید اور تاکید ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ بغیر اس کے کوئی شجاعت پیدا نہیں ہو سکتی ۔ جب آدمی لا اله الا اللہ کہتا ہے تو تمام انسانوں