ملفوظات (جلد 1) — Page 332
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۲ جلد اول اور پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ معارف قرآنی صرف اسی بات کا نام نہیں کہ کبھی کسی نے کوئی نکتہ بیان کر دیا۔ اس کی تو وہی مثال ہے۔ گاه باشد که کود کے نادان بغلط بر هدف زند تیرے انہیں قرآنی حقائق اور معارف کے بیان کرنے کے لئے قلب کو مناسبت اور کشش اور تعلق حق اور صدق سے ہو جاتا ہے پھر یہاں تک اس میں ترقی اور کمال ہوتا ہے کہ وہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الهوى (النجم : ۴) کا مصداق ہو جاتا ہے۔ اس کی نگاہ جب پڑتی ہے صدق پر ہی پڑتی ہے۔ اس کو ایک خاص قوت اور امتیازی طاقت دی جاتی ہے جس سے وہ حق و باطل میں فی الفور امتیاز کر لیتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل میں ایک قوت آجاتی ہے جو ایسی تیز جس ہوتی ہے کہ اسے دور سے ہی باطل کی بو آ جاتی ہے۔ یہی وہ ستر ہے جو لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۸۰) میں رکھا گیا ہے۔ جھوٹ ترک کئے بغیر انسان مطہر نہیں ہو سکتا حقیقت میں جب تک انسان جھوٹ کو ترک نہیں کرتا وہ مطہر نہیں ہو سکتا۔ سکتا۔ نابکار دنیا دار کہتے ہیں کہ جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا یہ ایک بے ہودہ گوئی ہے۔ اگر سچ سے گزارہ نہیں ہو سکتا تو جھوٹ سے ہرگز نہیں ہو سکتا۔ افسوس ہے کہ یہ بد بخت خدا کی قدر نہیں کرتے۔ وہ نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بدوں گزارہ نہیں ہو سکتا ۔ وہ اپنا معبود اور مشکل کشا جھوٹ کی نجاست کو سمجھتے ہیں اسی لیے خدا تعالیٰ نے جھوٹ کو بتوں کی نجاست کے ساتھ وابستہ کر کے قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔ یقیناً سمجھو کہ ہم ایک قدم کیا ایک سانس بھی خدا کے فضل کے بغیر نہیں لے سکتے ۔ ہمارے جسم میں کیا کیا قومی ہیں لیکن ہم اپنی طاقت سے کیا کر سکتے ہیں؟ کچھ بھی نہیں۔ جو لوگ اپنی قوت بازو پر بھروسہ کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے معنی خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھ رہنے کا نام خدا پر بھروسہ ہے۔ اسباب سے کام لینا اور خدا تعالیٰ کے عطا کردہ قومی کو کام میں لگانا یہ بھی خدا تعالیٰ کی قدر ہے جو لوگ ان قومی سے کام نہیں لیتے اور