ملفوظات (جلد 1) — Page 300
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۰ جلد اول جو سعادت اور رشد سے حصہ نہ رکھتے تھے۔ خدا ترسی اور انصاف سے بے بہرہ تھے۔ مجھے جھوٹا اور مفتری کہا اور ہر پہلو سے مجھے دکھ دینے اور تکلیف پہنچانے کی کوشش کی ۔ کفر کے فتوے دے کر مسلمانوں کو بدظن کرنا چاہا اور خلاف واقعہ امور کو گورنمنٹ کے سامنے پیش کر کے اس کو بھڑکانے کی کوشش کی ۔ جھوٹے مقدمات بنائے ۔ گالیاں دیں قتل کرنے کے منصوبے کئے ۔ غرض کون سا امر تھا جو اُنھوں نے نہیں کیا مگر میرا خدا ہر وقت میرے ساتھ ہے۔ اُس نے مجھے اُن کی ہر شرارت سے پہلے اُن کے فتنہ اور اس کے انجام کی خبر دی اور آخر وہی ہوا جو اُس نے ایک عرصہ پہلے مجھے بتلایا تھا۔ اور کچھ وہ لوگ بھی ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے سعادت ، خدا ترسی اور نور ایمان سے حصہ دیا ہے جنھوں نے مجھے پہچانا اور اُس نور کے لینے کے واسطے میرے گرد جمع ہو گئے جو مجھے خدا تعالیٰ نے اپنی بصیرت اور معرفت بخشی ہے۔ ان لوگوں میں بڑے بڑے عالم ہیں ۔ گریجویٹ ہیں ۔ وکیل اور ڈاکٹر ہیں۔ معزز عہدہ داران گورنمنٹ ہیں ۔ تاجر اور زمیندار ہیں اور عام لوگ بھی ہیں ۔ افسوس تو یہ ہے کہ نا اہل مخالف اتنا بھی تو نہیں کرتے کہ ایک حق بات جو ہم پیش کرتے ہیں اس کو آرام سے سن ہی لیں۔ اُن میں ایسے اخلاق فاضلہ کہاں؟ ورنہ حق پرستی کا تقاضا تو یہ ہے مرد باید که گیرد اندر گوش گر نوشت ست پند بر دیوار مذہب حق اور توحید اس زمانہ میں مذہب کے نام سے بڑی نفرت ظاہر کی جاتی ہے اور مذہب حقہ کی طرف آنا تو گویا موت کے منہ میں جانا ہے۔ مذہب حق وہ ہے جس پر باطنی شریعت بھی شہادت دے اُٹھے ۔ مثلاً ہم اسلام کے اصول تو حید کو پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہی حقانی تعلیم ہے کیونکہ انسان کی فطرت میں توحید کی تعلیم ہے اور نظارہ اور نظارہ قدرت بھی اس پر شہادت دیتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے مخلوق کو متفرق پیدا کر کے وحدت ہی کی طرف کھینچا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحدت ہی منظور تھی۔ پانی کا ایک قطرہ اگر چھوڑیں تو وہ گول ہوگا ۔ چاند، سورج سب اجرام فلکی گول ہیں اور کرویت وحدت کو چاہتی ہے۔