ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 299

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۹ جلد اول اس ذکر سے میری دو غرضیں ہیں ۔ ایک یہ کہ اپنی جماعت کا ایمان بڑھے اور انہیں وہی ذوق اور سرور حاصل ہو جو یہاں کے خوش قسمت حاضرین کو اس گھڑی حاصل ہوا اور انہوں نے سچے دل سے اعتراف کیا کہ ان کو نیا ایمان ملا ہے اور دوسرے یہ کہ منکرین اور بدظن اس علی بصیرة قسم میں ٹھنڈے دل سے غور کریں اور سوچیں کہ متعمد کذاب اور مفتری مُخْتَلِقُی کی یہ شان اور اسے یہ جرات ہو سکتی ہے کہ ذوالجلال خدا کی ایسی اور اس طرح اور ایسے مجمع میں قسم کھائے ۔ اللہ اکبر اللہ اکبر !! اللہ اکبر !!!! ۲۱ اکتوبر ۱۸۹۹ء لالہ کیشو د اس صاحب تحصیلدار بٹالہ اتفاق حسنہ سے قادیان میں وارد ہوئے اور حضرت اقدس کی ملاقات کے لئے تشریف لائے اور عرض کیا کہ مجھے فقراء سے ملنے کا کمال شوق ہے۔ اور اسی شوق کی وجہ سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی بے شک اگر آپ کے دل میں اہلِ دل لوگوں کے ساتھ محبت نہ ہوتی تو آپ غرض ۔ زندہ خدا پر زندہ ایمان پیدا کرنا ہمارے پاس کیوں آتے اور ایک دنیا در کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ ایک دنیا سے الگ گوشہ نشین کے پاس جاوے۔ مناسبت ایک ضروری شے ہے اور اصل تو یہ ہے کہ جب کہ انسان ایک فنا ہونے والی ہستی ہے اور موت کا کچھ بھی پتا نہیں کہ کب آجاوے اور عمر ایک نا پائیدار شے ہے پھر کس قدر ضروری ہے کہ اپنی اصلاح اور فلاح کی فکر میں لگ جاوے مگر میں دیکھتا ہوں کہ دنیا اپنی دھن میں ایسی لگی ہے کہ اس کو آخرت کا کچھ فکر اور خیال ہی نہیں۔ خدا تعالیٰ سے ایسے لا پروا ہو رہے ہیں گویا وہ کوئی ہستی ہی نہیں ۔ ایسی حالت میں جبکہ دنیا کی ایمانی حالت اس حد تک کمزور ہو چکی ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے تا کہ میں زندہ ایمان زندہ خدا پر پیدا کرنے کی راہ بتلاؤں ۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ کا عام قانون ہے ۔ بہت لوگوں نے الحکم جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخه ۹ ر ستمبر ۱۸۹۹ صفحه ۴، ۵