ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 286

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۶ جلد اول سے بارش اُتری ہے ۔ اب اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ برسات کا جب وقت آ گیا ہے تو کون ہے جو اُس کو بند کرے۔ یہ ایسا وقت ہے کہ لوگوں کے دل حق سے بہت ہی دُور جا پڑے ہیں ۔ ایسا کہ خود خدا پر بھی شک ہو گیا ہے۔ حالانکہ تمام اعمال کی طرف حرکت صرف ایمان سے ہوتی ہے۔ مثلاً ایمان باللہ کی اہمیت سم الفار کو اگر کوئی شخص طبا شیر سمجھ لے تو بلا خوف و خطر کئی ماشوں تک کھا جاوے گا۔ اگر یقین رکھتا ہو کہ یہ زہر قاتل ہے تو ہرگز اس کو منہ کے قریب بھی نہ لائے گا۔ حقیقی نیکی کے واسطے یہ ضروری ہے کہ خدا کے وجود پر ایمان ہو کیونکہ مجازی حکام کو یہ معلوم نہیں کہ کوئی گھر کے اندر کیا کرتا ہے اور پسِ پردہ کسی کا کیا فعل ہے۔ اور اگر چہ کوئی زبان سے نیکی کا اقرار کرے مگر اپنے دل کے اندر وہ جو کچھ رکھتا ہے اس کے لیے اُس کو ہمارے مؤاخذہ کا خوف نہیں اور دنیا کی حکومتوں میں سے کوئی ایسی نہیں جس کا خوف انسان کو رات میں اور دن میں ، اندھیرے میں اور اُجالے میں ، خلوت میں اور جلوت میں ، ویرانے میں اور آبادی میں ، گھر میں اور بازار میں ہر حالت میں یکساں ہو۔ پس درستی اخلاق کے واسطے ایسی ہستی پر ایمان کا ہونا ضروری ہے جو ہر حال اور ہر وقت میں اس کی نگران اور اس کے اعمال اور افعال اور اس کے سینہ کے بھیدوں کی شاہد ہے۔ کیونکہ دراصل نیک وہی ہے جس کا ظاہر اور باطن ایک ہو اور جس کا دل اور باہر ایک ہے۔ وہ زمین پر فرشتہ کی طرح چلتا ہے۔ دہر یہ ایسی گورنمنٹ کے نیچے نہیں کہ وہ حُسنِ اخلاق کو پا سکے ۔ تمام نتائج ایمان سے پیدا ہوتے ہیں چنانچہ سانپ کے سوراخ کو پہچان کر کوئی انگلی اس میں نہیں ڈالتا۔ جب ہم جانتے ہیں کہ ایک مقدار اسٹرکنیا کی قاتل ہے تو ہمارا اس کے قاتل ہونے پر ایمان ہے اور اس ایمان کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اس کو منہ نہیں لگا ئیں گے اور مرنے سے بچ جائیں گے۔ خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت تقدیر یعنی دنیا کے اندر تمام اشیاء کا ایک اندازہ اور قانون کے ساتھ چلنا اور ٹھیرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا کوئی مقد ریعنی اندازہ باندھنے والا ضرور ہے۔ گھڑی کو اگر کسی نے بالا رادہ نہیں بنایا تو وہ