ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 285

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۵ جلد اول کے نمونہ انصاف کو دکھلاتے رہیں جو نو شیروانی انصاف کو بھی اپنے کامل انصاف کی وجہ سے ادنی درجہ کا ٹھیراتا ہے اور یہ کس طرح سے ہو سکتا ہے کہ کوئی اس گورنمنٹ کے پر امن زمانہ کو برا خیال کرے اور اس کے برخلاف منصوبہ بازی کی طرف اپنا ذہن لے جاوے۔ سکھ مظالم حالانکہ یہ ہمارے دیکھنے کی باتیں ہیں کہ لکھوں کے زمانے میں مسلمانوں پر مظالم زمانہ میں مسلمانوں کو کس قدر سکھوں تکلیف ہوتی تھی ۔ صرف ایک گائے کے اتفا قا ذبح کیے جانے پر سکھوں نے چھ سات ہزار آدمیوں کو تہ تیغ کر دیا تھا اور نیکی کی راہ اس طرح پر مسدود تھی کہ ایک شخص مستمی کئے شاہ اس آرزو میں ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر دعائیں مانگتا تھا کہ ایک دفعہ صحیح بخاری کی زیارت ہو جائے اور دعا کرتا کرتا رو پڑتا تھا اور زمانہ کے حالات کی وجہ سے نا امید ہو جاتا تھا۔ آج گورنمنٹ کے قدم کی برکت سے وہی صحیح بخاری چار پانچ روپے میں مل جاتی ہے۔ اور اُس زمانہ میں لوگ اس قدر دُور جا پڑے تھے کہ ایک مسلمان نے جس کا نام خدا بخش تھا اپنا نام خدا سنگھ رکھ لیا تھا۔ بلکہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہیں کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزارہ ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں تو پھر کس طرح سے ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں ۔ اگر ہماری قوم کو خیال ہے کہ ہم گورنمنٹ کے برخلاف ہیں یا ہمارا مذہب غلط ہے تو ان کو چاہیے کہ وہ ایک مجلس قائم کریں اور اس میں ہماری باتوں کو ٹھنڈے دل سے سنیں تا کہ ان کی تسلی ہو اور اُن کی غلط فہمیاں دور ہوں۔ جھوٹے کے منہ سے بدبو آتی ہے اور فراست والا اُس کو پہچان جاتا ہے۔ صادق کے کام سادگی اور یک رنگی سے ہوتے ہیں اور زمانہ کے حالات اس کے مؤید ہوتے ہیں۔ آج کل دیکھنا چاہیے کہ لوگ کس طرح عقائد حقہ سے پھر گئے ہیں۔ ۲۰ کروڑ ضرورت زمانه این کتاب اسلام کے برخلاف شائع ہوئی ہیں اور کئی لاکھ آدمی عیسائی ہو گئے ہیں۔ ہر ایک بات کے لیے ایک حد ہوتی ہے اور خشک سالی کے بعد جنگل کے حیوان بھی بارش کی امید میں آسمان کی طرف منہ اُٹھاتے ہیں ۔ آج ۱۳۰۰ برس کی دھوپ اور امساک باراں کے بعد آسمان