ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 249

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۹ جلد اول پھر اس میں اس قدر کثرت سے تصنیفات کا ہونا بھی اسلام ہی کی تائید ہے کیونکہ قرآن شریف ہی کی تائید ہوئی ہے۔ کوئی اہل لغت جب کسی لفظ کے معنے لکھتا ہے تو اگر وہ لفظ قرآن کریم میں آیا ہے ساتھ ہی اس نے وہ آیت بھی ضرور ہی لکھ دی ہے۔ یہاں مولانا عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ لسان العرب نے تو یہ طریق لازمی طور پر رکھا ہے ۔ پھر حضرت نے اپنے سلسلہ تقریر میں فرمایا کہ سنسکرت وغیرہ زبانیں تو قریب مردہ ہوگئی ہیں ۔ نہ ان میں تصنیفات ہیں نہ کچھ اور ۔ ایسا ہی عیسائیوں کا حال ہے کہ ان کی انجیل کی اصلی زبان کی طرف توجہ ہی نہیں رہی۔ پھر اسی سلسلہ میں حضور نے فرمایا کہ اسلام کا پیدا کردہ روحانی انقلاب مجھے حیرت ہوتی ہے کہ پھر اسلام سے کیوں پرخاش رکھی جاتی ہے۔ اسلام کا خدا کوئی مصنوعی خدا نہیں بلکہ وہی قادر خدا ہے جو ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور پھر رسالت کی طرف دیکھو کہ اصل غرض رسالت کی کیا ہوتی ہے؟ اول یہ کہ رسول ضرورت کے وقت پر آئے اور پھر اس ضرورت کو بوجہ احسن پورا کرے۔ سو یہ فخر بھی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہے۔ عرب اور دنیا کی حالت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بالکل وحشی لوگ تھے۔ کھانے پینے کے سوا کچھ نہ جانتے تھے۔ نہ حقوق العباد سے آشنا اور نہ حقوق اللہ سے آگاہ۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایک طرف ان کا نقشہ کھینچ کر بتلایا کہ یا كُلُون كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ (محمد : ۱۳) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیم نے ایسا اثر کیا یبیتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا ( الفرقان : ۶۵) کی حالت ہوگئی ۔ یعنی اپنے رب کی یاد میں راتیں سجدے اور قیام میں گزار دیتے ہیں۔ اللہ ! اللہ ! کس قدر فضیلت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب سے ایک بینظیر انقلاب اور عظیم الشان تبدیلی واقع ہوگئی۔ حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں کو میزان اعتدال پر قائم کر دیا اور مردار خوار اور مردہ قوم کو ایک اعلیٰ درجہ کی زندہ اور پاکیزہ قوم بنادیا۔ دوہی خوبیاں ہوتی ہیں۔ علمی یا عملی ۔ عملی حالت کا تو یہ حال کہ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا اور علمی کا یہ حال کہ اس قدر کثرت سے