ملفوظات (جلد 1) — Page 242
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۲ جلد اول لئے پوچھیں تو اجازت دے دیتے ہیں اور اعلیٰ حکام کی ماتحت افسروں کو ہدایتیں ہوتی ہیں۔ ترک نماز میں ایسے بیجا عذر بجز اپنے نفس کے کچے پن کے اور کچھ نہیں ۔ حقوق العباد اور حقوق اللہ میں ظلم نہ کرو۔ اپنے فرائض منصبی بجالاؤ گورنمنٹ پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی بدظنی نہ کرو۔ کیا تم نہیں جانتے کہ سکھوں کے عہد میں کیا حال تھا ؟ مسجدوں میں اذان موقوف ہوگئی تھی ۔ گائے کے تھوڑے سے گوشت پر سخت ایذائیں اور بے حد ظلم ہوتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ دور سے اس سلطنت کولا یا جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا۔ امن سے اپنے مذہبی فرائض بجالانے لگے ہیں پس کس قدر شکر ہم کو اس گورنمنٹ کا کرنا چاہیے۔خوب یا د رکھو کہ جو انسان کا شکر نہیں کرتا وہ خدا کا بھی نہیں کرتا۔ یہ قاعدہ ہے کہ اگر انسان کسی عضو سے کام نہ لے تو بیکار ہو جاوے۔ کہتے ہیں آنکھ کو چالیس دن بند رکھیں تو اندھی ہو جاوے۔اس لئے میں تم کو بتا کید کہتا ہوں کہ گورنمنٹ کے احسان ہم پر بہت ہیں۔ کس قدر حقائق اور معارف کی کتابیں کہاں کہاں سے آتی ہیں۔ آزادی سے ہم نے فائدہ اٹھایا۔ مذہب پر حملے ہوئے اور مشکلات پڑے۔ ہم نے غور کیا اور فکر کی تو اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سبلنا (العنكبوت: ۷۰) ہم پر معارف اور حقا اور حقائق کھولے۔ اسی لحاظ سے گورنمنٹ بھی ان ، کے کھلنے کا ایک باعث ہے۔ پس بالآخر میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے سچا رشتہ قائم کرو اور گورنمنٹ پر بدظنی سے نہ دیکھو بلکہ اس کی ہدایات کی تعمیل کرو اور اس کو مدد دو ۔ فقط ۔ لے ۱۶ رمتی ۱۸۹۸ء معارف دن بہت ہی نازک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے غضب تم خدا کے عزیزوں میں شامل ہو جاؤ سے سب کو ڈرنا چاہیے۔ اللہ تعالی کی کی پروا سے سے نہیں کرتا مگر صالح بندوں کی ۔ آپس میں اخوت اور محبت کو پیدا کرو اور درندگی اور اختلاف کو چھوڑ دو۔ ہر ایک قسم کے ہنرل اور تمسخر سے مطلقا کنارہ کش ہو جاؤ کیونکہ تمسخر انسان کے دل کو صداقت ے رسالہ الانذار صفحه ۵۴ تا ۷۳ مرتبہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رض