ملفوظات (جلد 1) — Page 241
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۱ جلد اول کھجوریں لے کر چلے گئے اور چھوڑ کر آگئے ۔ چند روز بعد نہ دانہ رہا نہ پانی رہا تو اسماعیل مرنے لگے۔ اس وقت ماں نے نہ چاہا کہ میں اس کی موت دیکھ سکوں ۔ چند مرتبہ ادھر ادھر دوڑیں کہ شاید کوئی قافلہ آتا ہو۔ دور جا کر ٹیلے پر چڑھ کر چیخنے لگیں ۔ اب وہ وقت تھا کہ ایک ہی بچہ تھا اور آپ خاوند سے الگ تھیں ۔ گویا بیوہ ہی کی طرح تھیں ۔ آگے بچہ پیدا ہونے کی امید نہیں تھی ۔ چیخنے لگیں۔ اس وقت فرشتہ نے آواز دی کہ ہاجرہ۔ ہاجرہ۔ اِدھر دیکھا۔ اُدھر دیکھا کوئی نظر نہ آیا۔ پھر دیکھا کہ بچے کے اِدھر اُدھر پانی رواں ہو رہا ہے گو یا مردہ زندہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر پانی روکا نہ جاتا تو تمام دنیا میں بہہ نکلتا۔ اس قصہ کے بیان سے یہ مطلب ہے اگر چہ ایسی جگہ ہو جہاں دانہ پانی نہ ہو۔ جب بھی خدا تعالیٰ اپنی قدرت کا کرشمہ دکھاتا ہے چنانچہ پہلا کرشمہ یہ پانی تھا۔ اور اس بات کی طرف بھی اشارہ تھا کہ وہ پانی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھیلایا ۔ اس کی شان یہ ہے کہ اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحدید: ۱۸) اس پانی سے تو اسماعیل زندہ ہوا تھا اور اس سے دنیا زندہ ہوئی۔ مدعا یہ ہے کہ جہاں ظاہری تجویز نہ تھی وہاں اللہ تعالیٰ نے بچاؤ کی ایک راہ نکال دی۔ اور اللہ تعالیٰ جو یہ فرماتا ہے کہ اس کے امر سے زمین آسمان رہ سکتے ہیں دیکھو! وہ جنگل جہاں اس قدر گرمی پڑتی ہے اور ایک انسان نہ تھا اس کو خدا نے کیسا بنا دیا کہ کروڑ ہا مخلوق وہاں جاتی ہے اور ہر ایک جگہ سے لوگ جاتے ہیں۔ وہ میدان جہاں حج کے لئے لوگ جمع ہوتے ہیں وہی ہے جہاں نہ دانہ تھا نہ پانی۔ اپنی زندگی میں تبدیلی پیدا کرو اصل بات ) پیدا کرو اصل بات یہ ہے کہ خدا جو چاہتا ہے کرتاہے۔ ویرانہ کو آبادی اور بڑی آبادی کو ویرانہ بنا دیتا ہے۔ بابل کو کیا کیا ؟ جہاں انسان کا منصوبہ تھا کہ آباد ہو وہاں ویرانہ ہوا اور اُلوؤں کا مسکن بنا اور جہاں انسان چاہتا تھا کہ ویرانہ ہو وہ دنیا بھر کا مرجع ہوا۔ پس خوب یا د رکھو کہ دوا اور تدبیر پر خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بھروسہ کرنا حماقت ہے۔ ایسی زندگی چاہیے جو بالکل نئی ہو ۔ استغفار کی کثرت ہو۔ جن کو بہت کثرت اشغال ہیں ان کو زیادہ ڈرنا چاہیے۔ ملازمت پیشہ لوگوں کے اکثر فرائض فوت ہو جاتے ہیں۔ پس بعض اوقات ظہر اور عصر کا جمع اور مغرب اور عشاء کا جمع کرنا جائز ہے۔ میں جانتا ہوں کہ حکام سے بھی اگر نماز کے