ملفوظات (جلد 1) — Page 217
چار امر بطور علاج بتائے۔(۱) قرآن کی تلاوت <mark>کر</mark>تے رہنا (۲) مو ت کو یاد رکھنا (۳) سفر کے حالات قلمبند <mark>کر</mark>تے رہنا (۴) اگر ممکن ہو تو ہر روز ایک کارڈ لکھتے رہنا۔۳۳؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دعا پاک کلمات دعائیہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مبارک ہونٹوں سے نکلے ہوئے ہیں۔اے رب العالمین! <mark>تیرے</mark> <mark><mark>احسان</mark>وں</mark> کا میں <mark>ش<mark>کر</mark></mark> نہیں <mark>کر</mark> <mark>سکتا</mark>۔تو نہایت ہی رحیم و <mark>کر</mark>یم ہے اور <mark>تیرے</mark> بے غایت مجھ پر <mark>احسان</mark> ہیں۔<mark>میرے</mark> گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔<mark>میرے</mark> دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل <mark>کر</mark>ا جن سے تو راضی ہوجائے۔میں <mark>تیرے</mark> وَجْہِ <mark>کر</mark>یم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و <mark>کر</mark>م <mark>تیرے</mark> ہی ہاتھ میں ہے۔آمین ثم آمین۔۳۴؎ حضرت اقدسؑ کی پاک باتیں ۲۴ ؍فروری ۱۸۹۸ء مرید اور مرشد کا تعلق فرمایا۔مرید و مرشد کے تعلقات ایسے ہوتے ہیں کہ ماں باپ اولاد کو اتنا عزیز نہیں سمجھتے جتنا مرشد مرید کو جانتا ہے۔ماں باپ جسمانی تربیت اور تعلیم کے لئے کوششیں <mark>کر</mark>تے ہیں مگر مرشد مرید کی روحانی پیدائش کا موجب ہوتا