ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 210

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۰ جلد اول بشمار اور ڈاکو قرار دینے کی وجہ سے ان پر وہ لعنت پڑی ہے۔ اس لئے یہ بات کبھی بھولنی نہیں چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے راستبازوں کا انکار اور تکذیب ایک ایسی شے ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے اور اس کی روحانی طاقتوں اور قوتوں کے لئے زہر قاتل کا کام کرتی ہے۔ جو صادق کی نسبت سوء ظن کرتا ہے اور اس کی بے ادبی کرتا ہے وہ حقائق اور معارف سے بے نصیب کر دیا جاتا ہے۔ یہ لعنت عیسائیوں پر پڑی ہے کہ انہوں نے سارے راستبازوں کو خطا کا ر ٹھیرایا۔ غرض اس آیت میں یہ لطیفہ ہے کہ بارشوں کا جسمانی طور پر ایک نظام ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ اب بارش کے دن قریب ہیں ۔ مثلاً یہ جانتے ہیں کہ پوہ اور ماگھ کے دنوں میں بارش ہوتی ہے اور ساون اور بھادوں کے دنوں میں ہوتی ہے۔ پھر ایک یہ راز ہے کہ بارش بے ہودہ کبھی نہیں ہوتی ۔ در حقیقت وہی اوقات بارش کے لئے مفید ہوتے ہیں ۔ اسی طرح پر روحانی بارشوں کا سلسلہ چلتا ہے۔ یہ ایک نظری بحث ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے موٹی موٹی باتوں کو بطور شواہد کے پیش کیا ہے اور قسم کا لفظ شاہد کے قائم مقام بیان فرمایا۔ اس لفظ کو اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح پر قرض کے لفظ کو جسے میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔ محدثین اور مجددین کا سلسلہ اب ایک بات اور قابل غور ہے کہ ایک بارش تخم ریزی کے لئے اور کا ہوتی ہے اور پھر ایک بارش اس تخم کے نشوونما اور سرسبزی کے لئے ہوتی ہے۔ اسی طرح پر نبوت کی بارش تخم ریزی کے لئے ہوتی ہے اور محدثین اور مجددین کی بارش جو نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ ( الحجر : ۱۰) کے ضمن میں داخل ہیں۔ اس تخم کے بارور کرنے اور نشو و نمادینے کے لئے میں نے بار ہا اس امر کا ذکر کیا ہے کہ نبوت الوہیت کے لئے بطور میخ کے ہوتی ہے۔ جو شخص نبوت کا انکار کرتا ہے رفتہ رفتہ وہ الوہیت کے انکار تک پہنچ جاتا ہے۔ اور نبوت کے لئے ولایت بطور میخ کے ہوتی ہے ولی کے انکار سے رفتہ رفتہ سلپ ایمان ہو جاتا ہے۔ سولی اس وقت دیکھو کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرہ سو برس سے زائد عرصہ گزر گیا۔ اگر خدا تعالیٰ اس وقت تک بالکل خاموش رہتا اور اپنی تجلی نہ فرما تا تو اسلام ایک قصہ اور کہانی سے بڑھ کر کوئی وقعت