ملفوظات (جلد 1) — Page 209
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۹ جلد اول پہلا نظام پیش کر کے ان کو سمجھا دیا۔ غرض یہ ایک ستر ہے جس کو جاہلوں نے سمجھا نہیں اور اپنی نادانی اور عداوت حق کی بنا پر اعتراض کر دیا ہے۔ اصل مفہوم کو جو اللہ تعالیٰ نے اس میں مقصود رکھا تھا چھوڑ دیا۔ اللہ کو قرض دینے کا مفہوم اسی طرح پر ایک نادان کہتا ہے کہ مَن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا (البقرة:۲۴۶) ( کون شخص ہے جو اللہ کو قرض دے۔ ) اس کا مفہوم یہ ہے کہ گویا معاذ اللہ خدا بھوکا ہے۔ احمق نہیں سمجھتا کہ اس سے بھوکا ہونا کہاں دے۔) سے نکلتا ہے؟ یہاں قرض کا مفہوم اصل تو یہ ہے کہ ایسی چیزیں جن کے واپس کرنے کا وعدہ ہوتا ہے اس کے ساتھ افلاس اپنی طرف سے لگا لیتا ہے۔ یہاں قرض سے مراد یہ ہے کہ کون ہے جو خدا تعالیٰ کو اعمال صالحہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کی جزا اسے کئی گنا کر کے دیتا ہے۔ یہ خدا کی شان کے لائق ہے جو سلسلہ عبودیت کا ربوبیت کے ساتھ ہے اس پر غور کرنے سے اس کا یہ مفہوم صاف سمجھ میں آتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بدوں کسی نیکی ، دعا اور التجا اور بدوں تفرقہ کا فرو مومن کے ہر ایک کی پرورش فرما رہا ہے اور اپنی ربوبیت اور رحمانیت کے فیض سے سب کو فیض پہنچا رہا ہے۔ پھر وہ کسی کی نیکیوں کو کب ضائع کرے گا ؟ اس کی شان تو یہ ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَةً (الزلزال : ٨ ) جو ذرہ بھی نیکی کرے اس کا بھی اجر دیتا ہے اور جو ذرہ بدی کرے گا اس کی پاداش بھی ملے گی ۔ یہ ہے قرض کا اصل مفہوم جو اس آیت سے پایا جاتا ہے چونکہ اصل مفہوم قرض کا اس سے پایا جاتا تھا اس لئے یہی کہہ دیا مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا اور اس کی تفسیر اس آیت میں موجود ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ - نے ایک عاجز اور انسان کو عیسائیوں پر افتاد کی وجہ جاہل عیسائی جنہوں نے ایک عاجز اور ناتواں انسان و خدا بنالیا پر ہے اور اپنی بدکاریوں اور گناہوں کی گٹھڑی اس کے سر پر رکھ دی ہے اور اسے ملعون تسلیم کیا ہے ۔ باوجود یکہ ان کے پاس لعنت کے سوا کچھ بھی نہیں دوسروں پر اعتراض کرتے ہیں ۔ چونکہ خدا تعالیٰ کی پاک شریعت کو کفارہ کی بنا پر رڈ کر چکے ہیں اعمال صالحہ میں جو ایک لذت اور سرور ہوتا ہے وہ انہیں حاصل نہیں رہا اور خدا تعالیٰ کے سارے راستبازوں کو