ملفوظات (جلد 1) — Page 182
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۲ جلد اول غرض میرا مطلب تو صرف یہ تھا کہ رحیمیت میں ایک خاصہ پردہ پوشی کا بھی ہے مگر اس پردہ پوشی سے پہلے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی عمل ہو اور اس عمل کے متعلق اگر کوئی کمی یا نقص رہ جاوے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحیمیت سے اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔ رحمانیت اور رحیمیت میں فرق یہ ہے کہ رحمانیت میں فعل اور عمل کو کوئی دخل نہیں ہوتا مگر رحیمیت میں فعل و عمل کو دخل ہے۔ لیکن کمزوری بھی ساتھ ہی ہے۔ خدا کا رحم چاہتا ہے کہ پردہ پوشی کرے۔ اسی طرح مالک یوم الدین وہ ہے کہ اصل مقصد کو پورا کرے۔ خوب یا د رکھو کہ یہ امہات الصفات رُوحانی طور پر خدا نما تصویر ہیں ۔ ان پر غور کرتے ہی معاً خدا سامنے ہو جاتا ہے اور روح ایک لذت کے ساتھ اُچھل کر اس کے سامنے سر بسجود ہو جاتی ہے چنانچہ الْحَمْدُ لِلهِ سے جو شروع کیا گیا تھا تو غائب کی صورت میں ذکر کیا ہے لیکن ان صفات اربعہ کے بیان کے بعد معا صورت بیان تبدیل ہو گئی ہے کیونکہ ان صفات نے خدا کو سا منے حاضر کر دیا ہے۔ اس لئے حق تھا اور فصاحت کا تقاضا تھا کہ اب غائب نہ رہے بلکہ حاضر کی صورت اختیار کی جاوے۔ پس اس دائرہ کی تکمیل کے تقاضا نے مخاطب کی طرف منہ پھیرا اور إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة : ۵) کہا۔ یا د رکھنا چاہیے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں کوئی فاصلہ نہیں ہے۔ ہاں إِيَّاكَ نَعْبُدُ میں ایک قسم کا تقدم زمانی ہے کیونکہ جس حال میں محض اپنی رحمانیت سے بغیر ہماری دعا اور درخواست کے ہمیں انسان بنایا اور انواع و اقسام کی قوتیں اور نعمتیں عطا فرمائیں۔ اس وقت ہماری دعانہ تھی بلکہ محض اس کا فضل ہمارے شامل حال تھا اور یہی تقدم ہے۔ رحمانیت اور رحیمیت میں پھر بیان کرتا ہوں اور یہ بات یا درکھنے کے قابل ہے کہ رحم دو قسم کا ہوتا ہے۔ اول رحمانیت اور دوسرا رحیمیت کے نام سے موسوم ہے ۔ رحمانیت تو ایسا فیضان ہے کہ جو ہمارے وجود اور ہستی سے بھی پہلے شروع ہوا۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہمارے وجود سے پیشتر ہی زمین و آسمان ، چاند سورج اور دیگر اشیاء ارضی و سماوی پیدا کی ہیں جو سب کی سب ہمارے کام آنے والی ہیں اور کام آتی ہیں۔ دوسرے حیوانات بھی اُن سے فائدہ اُٹھاتے ہیں ۔ مگر وہ جب کہ بجائے خود انسان ہی کے لئے مفید ہیں اور انسان ہی کے کام آتے ہیں ۔