ملفوظات (جلد 1) — Page 181
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۱ جلد اول پردہ پوشی فرماتی ہے اور اس کو پاس کرا دیتی ہے۔ رحیمیت میں ایک قسم کی پردہ پوشی بھی ہوتی ہے۔ عیسائیوں کا خدا ذرہ بھی پردہ پوش نہیں ہے ورنہ کفارہ کی کیا ضرورت رہتی؟ ایسا ہی آریوں کا خدا نہ رب ہے نہ رحمان ہے کیونکہ وہ تو بلا مز د اور بلا عمل کچھ بھی کسی کو عطا نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ ویدوں کے اصول کے موافق گناہ کرنا بھی ضروری معلوم دیتا ہے ۔ مثلاً ایک شخص کو اگر کسی اُس کے عمل کے معاوضہ میں گائے کا دودھ دینا مطلوب ہے تو بالمقابل یہ بھی ضرور ہے کہ کوئی برہمنی (اگر یہ روایت صحیح ہو ) زنا کرے تا کہ اس فسق و فحش کے بدلہ میں وہ گائے کی جون میں جائے اور اس عامل کو دودھ پلائے خواہ وہ اس کا خاوند ہی کیوں نہ ہو۔ غرض جب تک ایسا سلسلہ نہ ہوگا کوئی عامل اپنے عمل کی جزا ویدک ایشر کے خزانہ سے پا نہیں سکتا کیونکہ اس کا سارا سلسلہ جوڑ توڑ ہی سے چلتا ہے۔ مگر اسلام نے وہ خدا پیش کیا ہے جو جمیع محامد کا سزاوار ہے اس لئے معطی حقیقی ہے وہ رحمن ہے بڑوں عملِ عامل کے اپنا فضل کرتا ہے۔ پھر مالکیت یوم الدین جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے با مراد کرتی ہے۔ دنیا کی گورنمنٹ کبھی اس امر کا ٹھیکہ نہیں لے سکتی کہ ہر ایک بی اے پاس کرنے والے کو ضرور نوکری دے گی مگر خدا تعالیٰ کی گورنمنٹ ، کامل گورنمنٹ اور لا انتہا خزائن کی مالک ہے۔ اس کے حضور کوئی کمی نہیں ۔ کوئی عمل کرنے والا ہو۔ وہ سب کو فائز المرام کرتا ہے اور نیکیوں اور حسنات کے مقابلہ میں بعض ضعفوں اور سقموں کی پردہ پوشی بھی فرماتا ہے۔ وہ تو اب بھی ہے اور مسیحی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ہزار ہا عیب اپنے بندوں کے معلوم ہوتے ہیں مگر وہ ظاہر نہیں کرتا۔ ہاں ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ بیباک ہو کر انسان اپنے عیبوں میں ترقی پر ترقی کرتا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی حیا اور پردہ پوشی سے نفع نہیں اُٹھاتا بلکہ دہریت کی رگ اس میں زور پکڑتی جاتی ہے۔ تب خدا تعالیٰ کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ اس بیباک کو چھوڑا جائے اس لئے وہ ذلیل کیا جاتا ہے۔ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کو محمد حسین کی نسبت الہام ہوا کہ اس میں کوئی عیب ہے۔ اس نے چاہا کہ وہ ظاہر کر دیں مگر انہوں نے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی حیا مانع ہے۔ پھر انہوں نے اس کی نسبت ایک رؤیا میں دیکھا کہ اس کے کپڑے پھٹ گئے ہیں چنانچہ اب وہ رویا پوری ہوگئی۔