ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 178

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۸ جلد اول اور شور مچا کر حق کو ملبس کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ پھر وہ فائدہ اُٹھائیں تو کیوں کر اُٹھا ئیں ۔ ابو جہل اور ابولہب میں کیا تھا ؟ یہی بے صبری اور بے قراری تو تھی ۔ کہتے تھے کہ تو خدا کی طرف سے آیا ہے تو کوئی نہر لے آ۔ ان کم بختوں نے صبر نہ کیا اور ہلاک ہو گئے ورنہ زبیدہ والی نہر تو آہی گئی ۔ اسی طرح پر ہمارے مخالف بھی کہتے ہیں کہ ہمارے لئے دعا کرو اور وہ معاً قبول ہو جائے اور پھر اس کو حق و باطل کا معیار ٹھیراتے ہیں اور اپنی طرف سے بعض اُمور پیش کر کے کہتے ہیں کہ یہ ہو جائے اور وہ ہو جائے تو مان لیں لیکن آپ کسی شرط کے نیچے نہیں آتے ۔ افسوس یہی لوگ ہیں جو لا يَخَافُ عقبها (الشمس: ۱۴) کے مصداق ہیں ۔ یادرکھو صابر ہی شرح صدر کا رتبہ پاتا ہے جو صبر نہیں کرتا وہ گویا خدا پر حکومت کرتا ہے۔ خود اس کی حکومت میں رہنا نہیں چاہتا۔ ایسا گستاخ اور دلیر جو خدا تعالیٰ کے جلال اور عظمت سے نہیں ڈرتا وہ محروم کر دیا جاتا ہے اور اُسے کاٹ دیا جاتا ہے۔ پھر یہ بات بھی یا درکھنی چاہیے کہ صبر کی حقیقت میں سے یہ بھی ضروری بات ہے كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ۱۱۹) صادقوں کی صحبت میں رہنا ضروری ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو دور بیٹھے رہتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کبھی آئیں گے، اس وقت فرصت نہیں ہے۔ بھلا تیرہ سو سال کے موعود سلسلہ کو جو لوگ پالیں اور اُس کی نصرت میں شامل نہ ہوں اور خدا اور صحبت صادقین ۱۳۰۰ رسول کے موعود کے پاس نہ بیٹھیں ، وہ فلاح پا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں ه ہم خدا خواهی و ہم دنیائے دوں ایس خیال است و محال است و جنوں دین تو چاہتا ہے کہ مصاحبت ہو پھر مصاحبت سے گریز ہو تو دینداری کے حصول کی اُمید کیوں رکھتا ہے؟ ہم نے بارہا اپنے دوستوں کو نصیحت کی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ وہ بار بار یہاں آکر رہیں اور فائدہ اُٹھائیں مگر بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔ لوگ ہاتھ میں ہاتھ دے کر تو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں مگر اس کی پروا کچھ نہیں کرتے ۔ یاد رکھو قبریں آوازیں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جاتی ہے۔ ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اُسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے جاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے مکر کرنا مومن کا کام نہیں ہے ۔ جب موت کا وقت آ گیا پھر ساعت -