ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 177

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۷ جلد اول تکمیل علمی کی طرف اشارہ فرمایا اور عَمِلُوا الصلحت سے تکمیل عملی کی طرف رہبری کی ۔ حکمت کے بھی دو ہی حصے ہیں۔ ایک علم اکمل اور اتم ہو۔ دوسرے عمل اتم اور اکمل ہو۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ خسر سے محفوظ رہتے ہیں۔ اول وہ تکمیل و تواصوا بالحق علمی کرتے ہیں اور پھر مل بھی گندے نہیں کرتے بلک علمی کھیل کو ملی تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور پھر یہ کہ جب انہیں کامل بصیرت حاصل ہو جاتی ہے اور ان کے کمال علم کا ثبوت کمال عمل سے ملتا ہے تو پھر وہ بخل نہیں کرتے بلکہ تواصوا بِالْحَقِّ پر عمل کرتے ہیں ۔ لوگوں کو بھی اس حق کی دعوت کرتے ہیں جو انہوں نے پایا ہے۔ اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ اعمال کی روشنی سے بھی دکھاتے ہیں ۔ واعظ اگر خود عمل نہیں کرتا تو اس کی باتوں کا کچھ بھی اثر نہیں پڑ سکتا۔ یہ بھی قاعدہ کی بات ہے کہ اگر خود آدمی کہے اور کرے نہیں تو اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے۔ اگر زنا کار زنا سے منع کرے تو اُس کی اس حالت کے ثابت ہو جانے پر سننے والوں کے دہر یہ ہو جانے کا اندیشہ ہے کیونکہ وہ خیال کریں گے کہ اگر زنا کاری واقعی خطرناک چیز ہوتی اور خدا تعالیٰ کے حضور اس ناپا کی پر سزا ملتی ہے اور خدا واقعی ہوتا تو پھر یہ جو منع کرتا تھا خود کیوں اس سے پر ہیز نہ کرتا۔ مجھے معلوم ہے کہ ایک شخص ایک مولوی کی صحبت کے باعث مسلمان ہونے لگا۔ ایک روز اُس نے دیکھا کہ وہی مولوی شراب پی رہا ہی تھا تو اس کا دل سخت ہو گیا اور وہ رک گیا۔ غرض تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ میں یہ فرمایا کہ وہ اپنے اعمال کی روشنی سے دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں۔ اور پھر ان کا یہ شیوہ ہوتا ہے ۔ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ یعنی صبر کے ساتھ وَ تَوَاصَوا بالصبر وعظ ونصیحت کا شیوہ اختیار کرتے ہیں۔ جلدی جھاگ منہ بِالصَّبْرِ پر نہیں لاتے۔ اگر کوئی مولوی اور پیش رو ہو کر امام اور رہنما بن کر جلدی بھڑک اُٹھتا ہے اور اس میں برداشت اور صبر کی طاقت نہیں تو وہ لوگوں کو کیوں نقصان پہنچاتا ہے؟ دوسرے یہ بھی مطلب ہے کہ جو باتیں سننے والا صبر سے نہ سنے وہ فائدہ نہیں اُٹھاتا۔ ہمارے مخالف برد باری کا دل لے کر نہیں آتے اور صبر سے اپنی مشکلات پیش نہیں کرتے بلکہ اُن کا تو یہ حال ہے کہ وہ کتاب تک تو دیکھنا نہیں چاہتے