ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 166

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۶ جلد اول متقیوں کے ساتھ ہے اور صرف تقویٰ محبت الہی کو جذب نہیں کرتا وَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ بھی ہوں ۔ متقی اور محسن مشتقی کے معنی میں ڈرنے والا۔ ایک ترک شر ہوتا ہے اور ایک افاضہ خیر مشقی ترک شر کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے اور محسن افاضہ خیر کو چاہتا ہے۔ میں نے اس کے متعلق ایک حکایت پڑھی ہے کہ ایک بزرگ نے کسی کی دعوت کی اور اپنی طرف سے مہمان نوازی کا پورا اہتمام کیا اور حق ادا کیا۔ جب وہ کھانا کھا چکے تو بزرگ نے بڑے انکسار سے کہا کہ میں آپ کے لائق خدمت نہیں کر سکا۔ مہمان نے کہا کہ آپ نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ میں نے احسان کیا ہے کیونکہ جس وقت تم مصروف تھے میں نے تمہارے مکان کو آگ نہیں لگا دی اگر میں تمہاری املاک کو آگ لگا دیتا تو کیا ہوتا ۔ غرض مشقی کا کام یہ ہے کہ برائیوں سے باز آوے۔ اس سے آگے دوسرا درجہ افاضہ خیر کا ہے جس کو یہاں مُحْسِنُونَ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے کہ نیکیاں بھی کرے۔ پورا راستباز انسان تب ہوتا ہے جب بدیوں سے پر ہیز کر کے یہ مطالعہ کرے کہ نیکی کون سی کی ہے؟ کہتے ہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نوکر چاء کی پیالی لایا۔ جب قریب آیا تو غفلت سے وہ پیالی آپ کے سر پر گر پڑی۔ آپؐ نے تکلیف محسوس کر کے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا۔ غلام نے آہستہ سے پڑھا الكظِمِينَ الْغَيْظَ ( ال عمران : ۱۳۵) یہ ٹن کر امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کظمت غلام نے پھر کہا وَ الْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۔ كَظم میں انسان غصہ دبا لیتا ہے اور اظہار نہیں کرتا ہے مگر اندر سے پوری رضا مندی نہیں ہوتی اس لئے عفو کی شرط لگا دی ہے۔ آپ نے کہا کہ میں نے عفو کیا۔ پھر پڑھاوَ اللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ - محبوب الہی وہی ہوتے ہیں جو کظم اور عفو کے بعد نیکی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا جا آزاد بھی کیا۔ راستبازوں کے نمونے ایسے ہیں کہ چاء کی پیالی گرا کر آزاد ہوا ۔ اب بتاؤ کہ یہ نمونہ اصول کی عمدگی ہی سے پیدا ہوا ۔ آنحضرت صلی اللہ وسلم کی قوت و اللہ وسلم کی قوت قدسی اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ (هود: ۱۱۳) یعنی سیدھا ہو جا کسی قسم کی