ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 165

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۵ جلد اول نہیں سمجھتا وہ سخت نا عاقبت اندیش اور نادان ہے۔ قانون قدرت میں اعمال اور ان کے نتائج کی نظیریں تو موجود ہیں کفارہ کی نظیر کوئی موجود نہیں ۔ مثلاً بھوک لگتی ہے تو کھانا کھا لینے کے بعد وہ فرو ہو جاتی ہے یا پیاس لگتی ہے پانی سے جاتی رہتی ہے تو معلوم ہوا کہ کھانا کھانے یا پانی پینے کا نتیجہ بھوک کا جاتے رہنا یا پیاس کا مجھ جانا ہوا ۔ مگر یہ تو نہیں ہوتا کہ بھوک لگے زید کو اور بکر روٹی کھائے اور زید کی بھوک جاتی رہے۔ اگر قانونِ قدرت میں اس کی کوئی نظیر موجود ہوتی تو شاید کفارہ کا مسئلہ مان لینے کی گنجائش رکھتا لیکن جب قانون قدرت میں اس کی کوئی نظیر ہی نہیں ہے تو انسان جو نظیر دیکھ کر ماننے کا عادی ہے اسے کیوں کر تسلیم کر سکتا ہے۔ عام قانون انسانی میں بھی تو اس کی نظیر نہیں ملتی ہے۔ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ زید نے خون کیا ہو اور خالد کو پھانسی ملی ہو۔ غرض یہ اک ایسا اُصول ہے جس کی کوئی نظیر ہرگز موجود نہیں ۔ اعمال صالحہ اور تقوی میں اپنی جماعت کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ ضرورت ہے اعمال صالحہ کی ۔ خدا تعالیٰ کے حضور اگر کوئی چیز جاسکتی ہے تو وہ یہی اعمال صالحہ ہیں إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ (فاطر : 11) خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اس وقت ہمارے قلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلواروں کے برابر ہیں لیکن فتح اور نصرت اسی کو ملتی ہے جو متقی ہو۔ خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمادیا ہے كَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (الروم : (۴۸) مومنوں کی نصرت ہمارے ذمہ ہے اور لَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا (النساء: ۱۴۲) اللہ مومنوں پر کافروں کو راہ نہیں دیتا اس لئے یا درکھو کہ تمہاری فتح تقوی سے ہے ورنہ عرب تو نرے لیکچرار اور خطیب اور شاعر ہی تھے۔ انہوں نے تقوی اختیار کیا۔ خدا تعالیٰ نے اپنے فرشتے ان کی امداد کے لئے نازل کیے۔ تاریخ کو اگر انسان پڑھے تو اُسے نظر آئے گا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جس قدر فتوحات کیں وہ انسانی طاقت اور سعی کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تک بیس سال کے اندر ہی اندر اسلامی سلطنت عالمگیر ہو گئی ۔ اب ہم کو کوئی بتاوے کہ انسان ایسا کر سکتا ہے؟ اسی لیے اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ (النحل: ۱۲۹) اللہ تعالیٰ