ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 154

ملفوظات حضرت مسیح موعود اولد جلد اول خدائے تعالیٰ کا پروانہ موجود ہے جس کا نام قرآن شریف ہے جو جنت اور ابدی آرام کا وعدہ دیتا ہے مگر اس کی نعمتوں کے وعدہ پر چنداں لحاظ نہیں کیا جاتا اور عارضی اور خیالی خوشیوں اور راحتوں کی جستجو میں کسی قدر تکلیفیں غافل انسان اُٹھاتا اور سختیاں برداشت کرتا ہے مگر خدائے تعالیٰ کی راہ میں ذراسی مشکل کو دیکھ کر بھی گھبرا اُٹھتا اور بدظنی شروع کر دیتا ہے ۔ کاش وہ ان فانی لذتوں کے مقابلہ میں ان ابدی اور مستقل خوشیوں کا اندازہ کر سکتا۔ ان مشکلات اور تکالیف پر فتح پانے کے لیے ایک کامل اور خطا نہ کرنے والا نسخہ موجود ہے جو کروڑ ہاراستبازوں کا تجربہ کردہ ہے ۔ وہ کیا ؟ وہ وہی نسخہ ہے جس کو نماز کہتے ہیں ۔ نماز کیا ہے؟ ایک قسم کی دعا ہے جو انسان کو تمام برائیوں اور فواحش سے محفوظ رکھ کر حسنات کا مستحق اور انعام الہیہ کا مورد بنا دیتی ہے۔ کہا گیا ہے کہ اللہ اسم اعظم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام صفات کو اس کے تابع رکھا ہے ۔ اب ذرا غور کرو۔ نماز کی ابتدا اذان سے شروع ہوتی ہے۔ اذان الله اكبر سے شروع ہوتی ہے۔ یعنی اللہ کے نام سے شروع ہو کر لا اله الا اللہ یعنی اللہ ہی پر ختم ہوتی ہے۔ یہ فخر اسلامی عبادت ہی کو ہے کہ اس میں اوّل اور آخر میں اللہ تعالیٰ ہی مقصود ہے نہ کچھ اور ۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس قسم کی عبادت کسی قوم اور ملت میں نہیں ہے۔ پس نماز جو دعا ہے اور جس میں اللہ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے۔ ایسا ہی انسان کا اسم اعظم استقامت ہے۔ اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں اس کی طرف ہی اشارہ فرمایا ہے اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا کہ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا (حم السجدة : ٣١) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے نیچے آگئے اور اس کے اسم اعظم استقامت کے نیچے جب بیضہ بشریت رکھا گیا۔ پھر اس میں اس قسم کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے کہ ملائکہ کا نزول اس پر ہوتا ہے اور کسی قسم کا خوف وحزن ان کو نہیں رہتا۔ میں نے کہا ہے کہ استقامت بڑی چیز ہے۔ استقامت سے کیا مراد ہے؟ ہر ایک چیز جب اپنے عین محل اور مقام پر ہو وہ حکمت اور استقامت سے تعبیر پاتی ہے ۔ مثلاً دوربین