ملفوظات (جلد 1) — Page 153
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۳ جلد اول اُٹھاتے ہیں۔ اسلام پر غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ نا کا می صرف جھوٹے ہونے کی وجہ سے پیش آتی ہے۔ جب خدائے تعالیٰ کی طرف سے التفات کم ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوتا ہے جو اس کو نا مراد اور ناکام بنا دیتا ہے۔ خصوصاً ان لوگوں کو جو بصیرت رکھتے ہیں جب وہ دنیا کے مقاصد کی طرف اپنے تمام جوش اور ارادے کے ساتھ جھک جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن کو نا مراد کر دیتا ہے لیکن سعیدوں کو وہ پاک اصول پیش نظر رہتا ہے جو احساسِ موت کا اصول ہے ۔ وہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح ماں باپ کا انتقال ہو گیا ہے یا جس طرح پر اور کوئی بزرگ خاندان فوت ہو گیا ہے اسی طرح پر مجھ کو ایک دن مرنا ہے اور بعض اوقات اپنی عمر پر خیال کر کے کہ بڑھاپا آ گیا اور موت کے دن قریب ہیں خدائے تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے ۔ بعض خاندان ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں عمریں علی العموم ایک خاص مقدار تک مثلاً ۵۰ یا ۶۰ تک پہنچتے ہیں ۔ بٹالہ میں میاں صاحب کا جو خاندان ہے اُس کی عمریں بھی علی العموم اسی حد تک پہنچتی ہیں۔ اس طرح پر اپنے خاندان کی عمروں کا اندازہ اور لحاظ بھی انسان کو احساسِ موت کی طرف لے جاتا ہے۔ غرض یہ بات خوب ذہن نشین رہنی چاہیے کہ آخر ایک نہ ایک دن دنیا اور اس کی لذتوں کو چھوڑنا ہے تو پھر کیوں انسان اس وقت سے پہلے ہی ان لذات کے ناجائز طریق حصول چھوڑ دے۔ موت نے بڑے بڑے راستبازوں اور مقبولوں کو نہیں چھوڑا اور وہ نوجوانوں یا بڑے سے بڑے دولت مند اور بزرگ کی پروا نہیں کرتی پھر تم کو کیوں چھوڑنے لگی ۔ پس دنیا اور اس کی راحتوں کو زندگی کے منجملہ اسباب سے سمجھو اور خدائے تعالیٰ کی عبادت کا ذریعہ ۔ سعدی نے اس مضمون کو یوں ادا کیا ہے۔ خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است تو معتقد که زیستن از بهر خوردن است یہ نہ سمجھو کہ خدا ہم سے خواہ مخواہ خوش ہو جائے اور ہم اپنے احتفاظ میں رہیں مگر ایسے اندھوں کو اگر خدا کی طرف سے ہی پروانہ آجائے تو وہ ان لذتوں کو جو جسمانی خواہشوں اور ارادوں کی پیروی میں سمجھتے ہیں نہ چھوڑیں گے اور ان کو اس لذت پر جو ایک مومن کو خدا میں ملتی ہے ترجیح دیں گے۔