ملفوظات (جلد 1) — Page 130
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۰ جلد اول دکھاتا ہے کہ روحانی تذلیل اور انکسار کے مراتب بھی دلوک ہی سے شروع ہوتے ہیں اور پانچ ہی حالتیں آتی ہیں۔ پس یہ طبعی نماز بھی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب حزن اور ہم وغم کے آثار شروع ہوتے ہیں۔ اس وقت جبکہ انسان پر کوئی آفت یا مصیبت آتی ہے تو کس قدر تذلل اور انکساری کرتا ہے ۔ اب اس وقت اگر زلزلہ آوے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ طبیعت میں کیسی رقت اور انکساری پیدا ہو جاتی ہے ۔ اسی طرح پر سوچو کہ اگر مثلاً کسی شخص پر نالش ہو تو سمن یا وارنٹ آنے پر اس کو معلوم ہوگا کہ فلاں دفعہ فوجداری یا دیوانی میں نالش ہوئی ہے۔ اب بعد مطالعہ وارنٹ اس کی حالت میں گویا نصف النہار کے بعد زوال شروع ہوا کیونکہ وارنٹ یا سمن تک تو اسے کچھ معلوم نہ تھا۔ اب خیال پیدا ہوا کہ خدا جانے ادھر وکیل ہو یا کیا ہو؟ اس قسم کے ترددات اور تفکرات زوال پیدا ہوتا ہے یہ وہی حالت دلوک ہے اور یہ پہلی حالت ہے جو نماز ظہر کے قائم مقام ہے اور اس کی عکسی حالت نماز ظہر ہے۔ اب دوسری حالت اس پر وہ آتی ہے جبکہ وہ کمرہ عدالت میں کھڑا ہو۔ فریق مخالف اور عدالت کی طرف سے سوالات جرح ہو رہے ہیں اور وہ ایک عجیب حالت ہوتی ہے۔ یہ وہ حالت اور وقت ہے جو نماز عصر کا نمونہ ہے کیونکہ عصر گھوٹنے اور نچوڑنے کو کہتے ہیں۔ جب حالت اور بھی نازک ہو جاتی ہے اور فرد قرارداد جرم لگ جاتی ہے تو یاس اور نا امیدی بڑھتی ہے کیونکہ اب خیال ہوتا ہے کہ سزامل جاوے گی یہ وہ وقت ہے جو مغرب کی نماز کا عکس ہے۔ پھر جب حکم سنایا گیا اور کنسٹیبل یا کورٹ انسپکٹر کے حوالہ کیا گیا تو وہ روحانی طور پر نماز عشاء کی عکسی تصویر ہے۔ یہاں تک کہ نماز کی صبح صادق ظاہر ہوئی اور اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (الانشراح:۷) کی حالت کا وقت آ گیا تو روحانی نماز فجر کا وقت آگیا اور فجر کی نماز اس کی عکسی تصویر ہے۔ القصہ میں پھر تم کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ تم جو میرے ساتھ ایک سچا تعلق پیدا کرتے ہو اس سے یہی غرض ہے کہ تم اپنے اخلاق میں ، عادات میں ایک نمایاں تبدیلی کرو جو دوسروں کے لئے ہدایت اور سعادت کا موجب ہو۔ لے اے رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ و صفحه ۱۳۰ تا ۱۶۷