ملفوظات (جلد 1) — Page 2
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲ کرے اور باریک ایمان یہ ہے کہ میرے پیچھے ہوئے۔ لے ۱۸۹۵ء جلد اول جناب مفتی محمد صادق صاحب لکھتے ہیں ۱۸۹۵ء میں جب میں حضرت اقدین کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا تو اس وقت بھی مجھے شوق تھا کہ آپ کے کلمات طیبات ایک کاغذ پر نقل کر کے ہمیشہ لاہور لے جاتا اور وہاں کے احمد یہ احباب کو ہفتہ وار کمیٹی میں سنایا کرتا ۔۔۔۔ اس وقت کی یادداشت میں سے کچھ نقل کر کے ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔ ان ایام میں چونکہ تاریخ کا انتظام نہیں رکھا تھا اس لئے بلا تاریخ ہر ایک بات درج کی جاتی ہے۔ بیعت میں جاننا چاہیے کہ کیا فائدہ ہے اور کیوں اس کی ضرورت ہے؟ جب بیعت اور توبہ تک کسی نشے کا فائدہ اور قیمت معلوم نہ ہوتو اس کی قدر آنکھوں کے اندر نہیں سماتی جیسے گھر میں انسان کے کئی قسم کا مال و اسباب ہوتا ہے ۔ مثلاً روپیہ، پیسہ، کوڑی ، لکڑی وغیرہ تو جس قسم کی جو شے ہے اسی درجہ کی اس کی حفاظت کی جاوے گی ۔ ایک کوڑی کی حفاظت کے لیے وہ سامان نہ کرے گا جو پیسہ اور روپیہ کے لیے اسے کرنا پڑے گا اور لکڑی وغیرہ کو تو یونہی ایک کو نہ میں ڈال دے گا۔ علیٰ ہذا القیاس جس کے تلف ہونے سے اس کا زیادہ نقصان ہے اس کی زیادہ حفاظت کرے گا۔ اسی طرح بیعت میں عظیم الشان بات تو بہ ہے۔ جس کے معنی رجوع کے ہیں۔ تو بہ اس حالت کا نام ہے کہ انسان اپنے معاصی سے جس سے اُس کے تعلقات بڑھے ہوئے ہیں اور اس نے اپنا وطن انہیں مقرر کر لیا ہوا ہے گویا کہ گناہ میں اس نے بود و باش مقرر کر لی ہوئی ہے تو تو بہ کے معنے یہ ہیں کہ اس وطن کو چھوڑنا اور رجوع کے معنے پاکیزگی کو اختیار کرنا۔ اب وطن کو چھوڑ نا بڑا گراں گزرتا ہے اور ہزاروں تکلیفیں ہوتی ہیں۔ ایک گھر جب انسان چھوڑتا ہے تو کس قدر ا سے تکلیف ہوتی ہے اور ل از تقریر حضرت مولانا عبد الکریم صاحب فرموده ۲۹ دسمبر ۱۸۹۷ء مندرجہ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۰۷،۱۰۶