ملفوظات (جلد 10) — Page 56
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۶ جلد دہم غرض یا درکھنا چاہیے کہ نماز ہی وہ شے ہے جس سے سب مشکلات آسان ہو جاتے ہیں اور سب بلائیں دور ہوتی ہیں مگر نماز سے وہ نماز مراد نہیں جو عام لوگ رسم کے طور پر پڑھتے ہیں بلکہ وہ نماز مراد ہے جس سے انسان کا دل گداز ہو جاتا ہے اور آستانہء احدیت پر گر کر ایسا محو ہو جاتا ہے کہ پگھلنے لگتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ نماز کی حفاظت اس واسطے نہیں کی جاتی کہ خدا کو ضرورت ہے خدا کو ہماری نمازوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔ وہ تو غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ ہے اس کو کسی کی حاجت نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ضرورت ہے اور یہ ایک راز کی بات ہے کہ انسان خود اپنی بھلائی چاہتا ہے اور اسی لیے وہ خدا سے مدد طلب کرتا ہے کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسان کا خدا سے تعلق ہو جانا حقیقی بھلائی کا حاصل کر لینا ہے۔ ایسے شخص کی اگر تمام دنیادشمن ہو جائے اور اس کی ہلاکت کے درپے رہے تو اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اور خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی خاطر اگر لاکھوں کروڑوں انسان بھی ہلاک کرنے پڑیں تو کر دیتا ہے اور اس ایک کی بجائے لاکھوں کو فنا کر دیتا ہے۔ حقیقی نماز یا درکھو! یہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی۔ لیکن اکثر لوگ جو نماز پڑھتے ہیں تو وہ نماز ان پر لعنت بھیجتی ہے کے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ( الماعون : ۶،۵) یعنی لعنت ہے ان نمازیوں پر جو نماز کی حقیقت سے ہی بے خبر ہوتے ہیں۔ نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بد عملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے مگر جیسے کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگا رہے اس طرح کا خشوع اور خضوع پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس لئے چاہیے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات لے بدر میں ہے۔ ایک حدیث ہے کہ بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن ان کو لعنت کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک انسان عمل نہ کرے، ولی حضور نہ ہوتو گویا وہ عبادت سانپ کی خاصیت رکھتی ہے دیکھنے میں بہت خوبصورت اور خوشنما مگر باطن دکھ دینے والی زہر سے پر“ (بدر جلدے نمبر امورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۱۱)