ملفوظات (جلد 10) — Page 48
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٧ جلد دہم حضرت عیسیٰ زندہ موجود ہیں اور وہی دوبارہ آئیں گے میں نے اُن سے کہا کہ اچھا یہ تو بتلاؤ کہ سوائے اس کے کہ کئی ہزار آدمی مرتد ہو گئے اور اس بات کا نتیجہ ہی کیا نکلا ہے؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے ۔ تب میں نے کہا کہ اچھا اس نسخہ کا تو آپ لوگوں نے تجربہ کر لیا ہے یہ تو غلط نکلا۔ اب ہمارا نسخہ بھی چند روز استعمال کر کے دیکھ لوکہ نتیجہ کیا ہوتا ہے ۔ اس پر ایک شخص اُٹھا اور کہنے لگا اسلام کی سچی خیر خواہی جیسی آپ کر رہے ہیں اور کوئی نہیں کر رہا۔ آپ بڑی خوشی سے اپنے کام میں لگے رہیں ۔ غرض مسلمانوں کی عجیب حالت ہو رہی ہے۔ بات بات موجودہ مسلمانوں کے غلط عقاید میں پیچھے۔ جگہ جگہ پر شکست ۔ ان کے نزدیک ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہو گئے ہیں مگر عیسیٰ زندہ ہیں اور ( نعوذ باللہ ) ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو میں شیطان سے پاک نہیں تھے مگر عیسی پاک تھا۔ اور پھر بے باپ تھا تو عیسی ، پرندوں کا خالق تھا تو عیسی ، مردے زندہ کرتا تھا تو عیسی ، آسمان پر چڑھ گیا تھا اور پھر دوبارہ نازل ہو گا تو عیسی ۔ اب بتلاؤ سوائے مرتد ہونے کے اس کا اور کیا نتیجہ ہو سکتا ہے ؟ غرض عیسی کی زندگی مرتد کرنے کا آلہ ہے۔ جو لوگ عیسائی ہو جاتے ہیں تو وہ ایسی ایسی باتیں ہی سن کر ہو جایا کرتے ہیں جن کا میں ذکر کر چکا ہوں ۔ ایک دفعہ بشپ صاحب لاہور میں لیکچر مرزائی ہیں تو کا فرمگر آج عزت رکھ لی ہے دے رہے تھے اور اس قسم کی باتیں پیش کرتے تھے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صاحب تو فوت ہو چکے ہیں اور ان کی مدینہ میں قبر موجود ہے مگر یسوع مسیح کی نسبت خود مسلمان بھی مانتے ہیں کہ وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں وغیرہ وغیرہ اور پھر کہتے تھے مسلمانو ! تم خود منصف بن کے دیکھ لو کہ آیا یہ باتیں سچی ہیں یا نہیں؟ تب ہمارے مفتی صاحب آگے بڑھے اور بشپ صاحب کو کہنے لگے کہ بتاؤ یہ باتیں قرآن شریف میں کہاں لکھی ہیں کہ لے بدر سے۔ اب ہمارے نسخے کو بھی چند روز آزما دیکھو کہ مسیح کی وفار اوفات ماننے میں اسلام کی زندگی اور میں کی او اسلام کی زندگی اور صلیبی مذہب کی موت ہے یا نہیں۔“ ( بدر جلدے نمبر ا مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه (۹)