ملفوظات (جلد 10) — Page 47
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷ جلد دہم اور پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صحیح بخاری میں آنے والے مسیح کی کسر صلیب اور قتل خیر اور ری نسبت ( جو کہ اس وقت آگیا ہے ) جو لکھا ہے يَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِير یعنی وہ صلیبوں کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کرے گا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جنگلوں میں چوہڑوں اور چماروں کی طرح شکار کھیلتا پھرے گا اور گرجوں پر چڑھ کر صلیبیں توڑتا پھرے گا۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ خنز پر نجاست کھانے والے کو کہتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ وہ نجاست جانوروں کی ہی ہو۔ بلکہ جھوٹ اور دروغ کی جو نجاست ہے وہ سب سے گندی اور بد بودار نجاست ہے اس لئے ایسے لوگوں کا جو ہر وقت جھوٹ اور فریب سے دنیا کو گمراہ کرتے رہتے ہوں اللہ تعالیٰ نے خنزیر نام رکھا ہے اور یہ جو فر ما یا يَكْسِرُ الصَّليب تو اس کے یہ معنے نہیں کہ مسیح جب آوے گا تو پتھر ، تانبے اور لکڑی وغیرہ کی صلیبوں کو جو پیسے پیسے پر فروخت ہوتی ہیں توڑتا پھرے گا ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صلیبی مذہب کی بنیاد کو توڑے گا اب دیکھ لو کہ اُن کے مذہب کا تمام دارو مدار تو عیسی کی زندگی پر ہے اور یہ نہیں کہ دوسرے انبیاء کی طرح وہ زندہ ہے بلکہ وہ ایسا زندہ ہے کہ پھر دوبارہ دنیا میں آئے گا اور خلقت کا فیصلہ کرے گا اور پھر معلوم نہیں کہ مسلمانوں میں عیسی کی زندگی کا مسئلہ کہاں سے آگیا بد قسمتی سے انہوں نے بھی عیسائیوں کی ہاں میں ہاں ملانی شروع کر دی۔ غرض سمجھنا چاہیے کہ عیسائیوں کے مذہب کی بنیاد تو صرف عیسی کی زندگی پر ہے جب وہ مر گیا تو پھر ان کا مذہب بھی ان کے ساتھ ہی مر گیا۔ لدھیانہ میں ایک دفعہ ایک پادری میرے پاس آیا اثنائے گفتگو میں میں نے اسے کہا کہ عیسی کی موت ایک معمولی سی بات ہے۔ اگر تم مان لو کہ عیسی مر گیا ہے تو اس میں تمہارا ہرج کیا ہے؟ تو اس پر وہ کہنے لگا کہ کیا یہ معمولی سی بات ہے۔ اسی پر تو ہمارے مذہب کا تمام دار و مدار ہے۔ یہ ۔ ایسے ہی دہلی میں جب میں گیا تھا تو بہت سے آدمی جمع ہو کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ لے بدر سے۔ ” اس نے کہا کہ اگر مسیح کے زندہ ہونے کا عقیدہ نہ ہو تو پھر سب یکدم مسلمان ہو جائیں۔ ہمارے مذہب کی روح یہی بات ہے جب یہ نکلی تو ہم بے جان ہو جائیں گے ۔ بدر جلد کے نمبر ا مورخہ ۹ جنوری ۱۹۰۸ صفحہ ۹) 66