ملفوظات (جلد 10) — Page 43
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۳ جلد دہم چاہیے کہ ان کی حکومت کا ہونا بھی خدا تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے۔ سکھوں کے زمانے کو دیکھو کہ اگر کوئی اذان بھی دیتا تھا تو قتل کر دیتے تھے۔ مگر اس سلطنت میں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر طرح سے آزادی ہے اس کا ہونا ہمارے لئے بڑی بڑی برکتوں کا موجب ہے۔ خود ہمارے اس گاؤں قادیان میں جہاں ہماری مسجد ہے کارداروں کی جگہ تھی۔ اس وقت ہمارے پچپن کا زمانہ تھا۔ لیکن میں نے معتبر آدمیوں سے سنا ہے کہ جب انگریزوں کا دخل ہو گیا تو چند روز تک وہی سابقہ قانون رہا۔ انہی ایام میں ایک کاردار یہاں آیا ہوا تھا اس کے پاس ایک مسلمان سپاہی تھا وہ مسجد میں آیا اور مؤذن کو کہا کہ اذان دو۔ اس نے وہی ڈرتے ڈرتے گنگنا کر اذان دی سپاہی نے کہا کیا تم اسی طرح سے بانگ دیا کرتے ہو؟ مؤذن نے کہا ہاں اسی طرح دیتے ہیں۔ سپاہی نے کہا کہ نہیں ۔ کوٹھے پر چڑھ کر اونچی آواز سے اذان دو اور جس قدر زور سے ممکن ہو سکتا ہے بانگ دو۔ وہ ڈرا۔ آخر اس نے سپاہی کے کہنے پر زور سے بانگ دی لے اس پر ہندوا کھٹے ہو گئے اور مثلا کو پکڑ لیا۔ وہ بیچارہ بہت ڈرا اور گھبرایا کہ کاردار مجھے پھانسی دے دے گا۔ سپاہی نے کہا کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ آخر وہ اس کو پکڑ کر کاردار کے پاس لے گئے اور کہا کہ مہاراج اس نے ہم کو بھرشٹ کر دیا ہے۔ کاردار تو جانتا تھا کہ اب سلطنت تبدیل ہو گئی ہے اور اب وہ سکھا شاہی نہیں رہی۔ اس لئے ذرا دبی زبان سے پوچھا کہ تو نے اونچی آواز سے کیوں بانگ دی؟ سپاہی نے آگے بڑھ کر کہا کہ اس نے نہیں دی میں نے بانگ دی ہے۔ تب کاردار نے ہندوؤں کو کہا۔ کمبختو کیوں شور ڈالتے ہو؟ لاہور میں تو اب کھلے طور پر (بقیہ حاشیہ ( ہوگئی کہ ایک دوسرے کو کاٹنے دوڑتے جیسے کتوں کے آگے بڑی ڈال دیں تو وہ ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں اور اخوت ہمدردی کا نام و نشان نہ رہا تو خدا کی حکمت بالغہ نے ان سے سلطنت لے لی ۔“ ( بدر جلدے نمبر امورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه (۸) لے بدر سے ۔ اور اس نے زور سے اذان دی کہ چالیس برس پہلے تک اس علاقہ میں کوئی اذان نہ دی گئی تھی ۔“ 66 ( بدر جلدے نمبر ۱ مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۸)