ملفوظات (جلد 10) — Page 42
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد جلد دہم قصور اس کے اختیار سے باہر نہیں ہوتا ۔ مثلاً فرض کرو کہ کسی بھاری سے بھاری گناہ پر وہ اپنی طرف سے ۵۰، ۲۰ روپیہ جرمانہ کر سکتا ہے لیکن اگر قصور وار زیادہ کا حقدار ہو تو پھر تحصیلدار یہ کہہ کر کہ یہ میرے اختیار سے باہر ہے اور کہ تمہاری سزا کا یہاں موقع نہیں کسی اعلیٰ افسر کے سپرد کرتا ہے۔ اسی طرح یہودیوں کی شرارتیں اور شوخیاں اسی حد تک ہیں کہ ان کی سزا اسی دنیا میں دی جا سکتی تھی لیکن ضالین کی سزا یہ دنیا برداشت نہیں کر سکتی کیونکہ ان کا عقیدہ ایسا نفرتی عقیدہ ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ۔ تَكَادُ السَّمَاتُ يَتَفَكَّرُنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَذَا أَنْ دَعَوُا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا ( مریم : ۹۱، ۹۲) یعنی یہ ایک ایسا برا کام ہے جس سے قریب ہے کہ زمین آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ غرض یہودیوں کی چونکہ سزا تھوڑی تھی اس لئے ان کو اسی جہان میں دی گئی اور عیسائیوں کی سزا اس قدر سخت ہے کہ یہ جہان اس کی برداشت نہیں کر سکتا اس لئے ان کی سزا کے واسطے دوسرا جہان مقرر ہے اور پھر یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ یہ عیسائی صرف خال ہی نہیں ہیں بلکہ مضل بھی ہیں ۔ ان کا دن رات یہی پیشہ ہے کہ اوروں کو گمراہ کرتے پھریں۔ پچاس پچاس ہزار، ساٹھ ساٹھ ہزار بلکہ لاکھوں پرچے ہر روز شائع کرتے ہیں اور اس باطل عقیدہ کی اشاعت کے لئے ہر طرح کے بہانے عمل میں لاتے ہیں۔ یا درکھو! گورنمنٹ کو ان پادریوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا انگریز قوم کی انصاف پسندی ایک انگریز یہاں آیا تھا۔ جاتی دفعہ پوچھنے لگا کہ میرے راستہ میں کسی پادری کی کوٹھی تو نہیں؟ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پادریوں سے سخت نفرت کرتا تھا۔ کے یہ لوگ بڑے منصف مزاج ہوتے ہیں۔ اگر یہ منصف نہ ہوتے تو حکومت نہ رہتی۔ یا د رکھنا لے بدر میں مزید لکھا ہے۔ ایک اور انگریز تھا جس کی عدالت میں ہمارا مقدمہ ہوا۔ فریق مخالف ایک جنٹلمین پادری تھا۔ آٹھ دس گواہ بھی گزارے اور یوں بھی تم جانتے ہو کہ حکام کے اختیار میں سب کچھ ہوتا ہے قومیت کا سوال بھی تھا مگر میں نے سنا کہ اس نے صاف کہہ دیا کہ مجھ سے یہ بدذاتی نہیں ہو سکتی کہ کسی بے گناہ کو سزا دوں ۔ مجھے بلا کر کہا آپ کو مبارک ہو۔ اگر یہ لوگ ان اوصاف والے نہ ہوتے تو ہمارے حاکم بھی نہ ہوتے۔ مسلمانوں میں جب یہ حالت