ملفوظات (جلد 10) — Page 379
ملفوظات حضرت مسیح موعود شعر کیا ہی موزوں ہے کہ ۳۷۹ جلد دہم تو کار زمین را نکو ساختی که با آسمان نیز پرداختی ان کے دقیق در دقیق مباحثات میں پڑکر ان کی تفصیلات کی جستجو میں وقت ضائع کرنا ٹھیک نہیں ۔ سوال۔ میں ایک روز گر جا میں گیا تھا وہاں پادری صاحب نے لیکچر میں بیان کیا کہ انسان ایک بالکل ذلیل ہستی ہے اور گندہ کیڑا ہے۔ یہ روز بروز نیچے ہی نیچے گرتا ہے اور ترقی کے قابل ہی نہیں ۔ اسی واسطے اس کی نجات اور گناہ سے بچانے کے واسطے خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو کفارہ کیا مگر میں جانتا ہوں کہ انسان نیکی میں ترقی کر سکتا ہے۔ میرا یہ بچہ اس وقت اگر بے علمی کی وجہ سے کوئی حرکت ناجائز کرے تو پھر ایک عرصہ بعد جب اسے عقل آوے گی اور اس کا علم ترقی کرے گا تو یہ خود بخود سمجھ لے گا 66 کہ یہ کام بڑا ہے اس سے پر ہیز کر کے اچھے کام کرے گا ۔“‘ حضور کا اس میں کیا اعتقاد ہے؟ جواب ۔ فرمایا ۔ انسان نیک ہے۔ نیکی کر سکتا ہے اور ترقی کرنے کے قومی اس کو دیئے گئے ہیں۔ نیکی میں ترقی کر کے انسان نجات پاسکتا ہے۔ سوال۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ انسان لاکھ نیکی کرے مگر وہ برباد ہے بجز اس کے کہ کفارہ مسیح پر ایمان لاوے ۔ آپ اس میں کیا فرماتے ہیں؟ جواب ۔ انسان کو عمل اور کوشش کی ضرورت ہے۔ کفارہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ جیسا جسمانی نظام ہے ویسا ہی روحانی نظام ہے۔ نظام جسمانی میں ایک کاشتکار کی مثال ہی کو لے لو۔ وہ کس محنت سے قلبہ رانی کرتا ہے اور بیج بوتا اور پانی دینے وغیرہ کی محنت برداشت کرتا ہے۔ کیا اسے کسی کفارہ کی ضرورت ہے؟ نہیں بلکہ اسے محنت اور عمل کی ضرورت ہے۔ اس بات کو ہم مانتے ہی نہیں کہ بجز کفارہ کے کوئی راہ نجات ہی نہیں ۔ کفارہ تو بلکہ انسانی ترقیات کی راہ میں ایک روک اور پتھر ہے ۔ پاکیزگی سے یہ مراد ہے کہ انسان کو جو اس کے جذبات نفسانیہ خدا سے روگرداں کر کے اپنی خواہشات