ملفوظات (جلد 10) — Page 377
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۷ جلد دہم انسان کی پیدائش کے ساتھ ساتھ پیدا ہوتا اور نشو و نما پاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک گولر کے پھل کو لو۔ جب وہ کچا ہوگا تو اس میں ایک قسم کے نامکمل حالت میں زندہ جانور پائے جاویں گے مگر جو نہی کہ وہ پک کر تیار ہو گا اس میں سے جانور چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور یہاں تک کہ پر لگ کر اڑ نے بھی لگ جاویں گے۔ اس کے سوا اور بھی کئی درختوں کے پھل ہیں جن میں اس قسم کے مشاہدات پائے جاتے ہیں ۔ غرض ہمارے پاس تو ہمارے دعوے کا ثبوت ہے۔ ثابتہ سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اصل میں ان پھلوں میں ایک قسم کا مادہ اندر ہی اندر موجود ہوتا جو پھل کے نشوونما کے ساتھ ساتھ نشوونما کرتا اور ترقی پاتا ہے۔ سوال۔ سپر بچولزم والوں کی رائے ہے کہ زندگی چاند سے اتری اور عقل مشتری سے اور چاند زمین سے بنا۔ ابتدا میں زمین بہت نرم تھی۔ زمین کا ایک ٹکڑا اڑ کر آسمان پر چلا گیا اور وہ چاند بن گیا۔ اصل میں زندگی زمین ہی سے نکلی ۔ زمین سے چاند میں گئی اور چاند سے پھر انسان میں اترتی ہے۔ اس میں آپ کا اعتقاد کیا ہے؟ جواب ۔ فرمایا۔ چاند، سورج اور اور سیاروں کی تاثیرات کے ہم قائل ہیں۔ ان سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے اور بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت بھی ان کی تاثیرات کا اثر بچے پر ہوتا ہے۔ یہ امر شریعت کے خلاف نہیں ۔ اسی واسطے ہمیں ان کے ماننے میں عذر نہیں۔ نباتات میں چاند کی روشنی کا اثر بین طور سے ظاہر ہے۔ چاند کی روشنی سے پھل موٹے ہوتے ہیں۔ ان میں شیرینی پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات لوگوں نے اناروں کے چٹخنے کی آواز تک بھی سنی ہے جو چاند کی روشنی کے اثر سے پھوٹتے ہیں اس سے زیادہ جو حصہ پیچیدہ اور ثابت شدہ نہیں اس کے ماننے کے واسطے ہم تیار نہیں ہیں ۔ قرآن شریف میں صاف بیان کیا گیا ہے کہ چاند، سورج اور تمام سیارے انسان کے خادم اور مفید مطلب ہیں اور ان میں انسانی فوائد مرکوز ہیں ۔ پس ہم اس بات کے ماننے میں کوئی حرج نہیں پاتے کہ جس طرح سے نباتات سے ہمیں فائدہ پہنچتا ہے اسی طرح ان تمام سیاروں سے بھی ہم فائدہ