ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 376

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۶ جلد دہم پہلے سانپ بچھو وغیرہ سے ترقی کرتے کرتے بندر بنا اور بندر سے انسان بنا اور روح کس وقت پیدا ہوئی ؟ جواب ۔ فرمایا۔ ہمارا یہ مذہب نہیں کہ انسان کسی وقت بندر تھا مگر آہستہ آہستہ دم بھی کٹ گئی اور پشم بھی جاتی رہی اور ترقی کرتے کرتے انسان بن گیا۔ یہ ایک دعوئی ہے جس کا بار ثبوت اس دعویٰ کے مدعی کے ذمے ہے چاہیے کہ کوئی ایسا بند ر پیش کیا جاوے جو آہستہ آہستہ ترقی کرتے کرتے انسانی حالت میں آجاوے۔ ہم ایسے بے دلیل قصے کہانیوں پر کیوں کر ایمان لا سکتے ہیں؟ البتہ یہ تو ہم مانتے ہیں کہ آدم بہت سے گزرے ہیں مگر موجودہ حالات کے ماتحت جو ہم روز مشاہدہ کرتے ہیں کہ انسان سے انسان پیدا ہوتا ہے۔ بندر سے انسان یا انسان سے بند رکبھی کسی نے پیدا ہوتا نہیں دیکھا ہوگا ۔ یہ تو ایک ناولوں کا قصہ ہے۔ ہمیشہ نوع سے نوع ہی پیدا ہوتی ہے۔ خدا نے اپنا قانون ہماری آنکھوں کے سامنے رکھا ہوا ہے کہ گدھے سے گدھا اور گھوڑے سے گھوڑا۔ بندر سے بندر پیدا ہوتا ہے۔ اب اس کے خلاف جو کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ بندر سے انسان بھی پیدا ہوتا ہے اس کو اپنے دعوے کی دلیل بھی پیش کرنی چاہیے ۔ یہ کہہ دینا کہ شاید ایسا ہو گیا ہو۔ شاید کے کیا معنی؟ مارے ساتھ تو اللہ تعالیٰ نے ایک مشاہدہ دلیل کے طور سے رکھا ہوا ہے اس کے خلاف کہنے توار والوں کو کوئی بین دلیل پیش کرنی چاہیے ورنہ ظنی باتوں اور صرف دعوؤں سے کوئی امر حجت نہیں ہوسکتا۔ روح ایک مخلوق چیز ہے۔ اسی عنصری مادے سے خدا اسے بھی پیدا کرتا ہے ( جیسا کہ مفصل طور سے اس امر کو ہم نے اس تازہ تصنیف کتاب چشمہ معرفت میں بیان کیا ہے ) روح انسانی بار یک اور مخفی طور سے نطفہ انسانی میں ہی موجود ہوتی ہے اور وہ بھی نطفہ کے ساتھ ساتھ ہی آہستگی سے نشو و نما کرتی اور ترقی پاتی پاتی چوتھے مہینے کے انجام اور پانچویں مہینے کے ابتدا میں ایک بین تغیر اور نشوونما پا کر ظہور پذیر ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنی پاک کلام میں فرماتا ہے کہ ثُمَّ انْشَانه خَلْقًا أَخَرَ (المؤمنون : ۱۵) یہ درست نہیں جیسا کہ جو آریہ بتاتے ہیں کہ روح بھی خدا کی طرح ازلی ابدی ہے۔ اس اعتقاد پر اتنے شبہات پڑتے ہیں کہ پھر خدا خدا ہی نہیں رہتا ۔ روح ایک لطیف جو ہر ہوتا ہے جو مخفی طور سے