ملفوظات (جلد 10) — Page 356
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۶ جلد دہم تعریف کرنے والا اور گالی دینے والا ، مناقب بیان کرنے والا اور حقارت سے دیکھنے والا اس کی نظر میں یکساں ہو جاویں اور یہ دونوں کو برابر جانے ، مردے کی طرح جانے جو نہ اس کا کچھ بگاڑ سکتا ہے اور نہ سنوار اس وقت میں سِرًّا وَ عَلَانِيَةً پر بحث نہیں کرتا بلکہ نفس ( کی ) ملونی کا ذکر کرتا ہوں میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیشہ خفیہ ہی خیرات کرو اور علانیہ نہ کرو۔ نیک نیتی کے ساتھ ہر کام میں ثواب ہوتا ہے۔ ایک نیک طبع انسان ایک کام میں سبقت کرتا ہے اس کی دیکھا دیکھی دوسرے بھی اس کار خیر میں شریک ہو جاتے ہیں۔ اس طرح سے اس شخص کو بھی ثواب ملتا ہے بلکہ ان کے ثواب میں سے بھی حصہ لیتا ہے۔ پس اس رنگ میں کوئی نیک کام اس نیت سے کرنا کہ دوسروں کو بھی ترغیب و تحریص ہو بڑا ثواب ہے۔ شریعت اسلام میں بڑے بڑے باریک امور ایسے ہیں تاکہ اخلاص کی اخلاص کی اہمیت قوت پیدا ہو جائے ۔ اخلاص ایک موت ہے جو خلا کو اپنے نفس پر وارد ۔ کرنی پڑتی ہے۔ جو شخص دیکھے کہ علانیہ خرچ کرنے اور خیرات دینے یا چندوں میں شامل ہونے سے اس کے نفس کو مزا آتا ہے اور ریا پیدا ہوتا ہے تو اس کو چاہیے کہ ریا کاری سے دست بردار : بردار ہو جائے اور بجائے علانیہ خرچ کرنے کے خفیہ طور سے خرچ کرے اور ایسا کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی علم نہ ہو۔ پھر خدا قادر ہے کہ نیک کو اس کی نیکی اور پاک تبدیلی کی وجہ سے بخش دے۔ اس میں کوئی سو برس کی ضرورت نہیں اخلاص کی ضرورت ہے۔ دیکھو! حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک بڑھیا کو بلا ناغہ حلوا کھلایا کرتے تھے اور ان کے اس فعل کی کسی کو خبر نہ تھی۔ ایک دن جب کہ بڑھیا کو حلوا نہ پہنچا۔ اس نے اس سے یقین کر لیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفات پاگئے ۔ اب جائے غور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کیسے ے بدر میں ہے ۔ یہ خیال نہ کرو کہ سو سال تک عبادت کرنے ہی سے نجات ہوتی ہے بلکہ خدا تو نکتہ نواز ہے وہ ایک نیکی سے بخش دیتا ہے۔ صرف اخلاص چاہیے۔“ ( بدر جلدی نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ ء صفحہ ۷ ) وو