ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 355

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۵ جلد دہم ایک خطرناک کیڑا ہے۔ مثلاً ایک مجلس میں چندہ ہوتا ہے ایک شخص اٹھتا ہے میرا پانصد روپیہ لکھا جاوے۔ اب اگر صرف دکھاوے اور واہ واہ کی آواز کی واسطے یا نام پیدا کرنے کے واسطے ایسا کرتا ہے تو اس کا اجر اس نے پالیا عند اللہ اس کے واسطے کوئی اجر نہ ہوگا۔ اس موقع پر ہمیں ایک نقل تذکرۃ الاولیاء کی یاد آ گئی ۔ لکھا ہے کہ ایک بزرگ تھے ان کو دس ہزار روپیہ کی سخت ضرورت پیش آگئی ۔ انہوں نے اپنی ضرورت کا اظہار کیا تو ایک شخص نے دس ہزار روپیہ کی تھیلی ان کے آگے لا رکھی ۔ اب وہ بزرگ لگے اس شخص کی تعریف کرنے اور ایک گھنٹہ تک برابر اس کی تعریف کی ۔ آخر وہ شخص جس نے روپیہ دیا تھا مجلس میں سے اٹھ کھڑا ہوا اور گھر سے واپس لوٹ کر عرض کی کہ مجھ سے تو سخت غلطی ہوئی۔ اصل میں وہ روپیہ تو میری ماں کا تھا اور میں اس کا روپیہ خود بخود دینے کا مختار نہ تھا۔ روپیہ مجھے دے دیا جاوے۔ اب لگی اس کو بجائے تعریف کے لعن طعن ہونے اور لوگ کہنے لگے کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بناوٹ کی ہے۔ بہانہ کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ مگر جب وقت گزر گیا اور رات کی سنسان گھڑیاں تھیں کہ وہی شخص وہی روپیہ لے کر اسی بزرگ کے مکان پر چپکے سے گیا اور وہی روپیہ پیش کر کے عرض کی کہ حضور میں نے روپیہ اللہ کے واسطے دیا تھا نہ کہ تعریفیں سننے کے واسطے۔ اب آپ کو قسم ہے خدا کی کہ آپ اس روپیہ کا کسی سے ذکر نہ کریں۔ یہ سن کر وہ بزرگ رو پڑے اس خیال سے کہ اب جب تک یہ شخص جئے گا لوگ اسے گالیاں دیں گے۔ طعن و تشنیع کریں گے ملامت کیا ہی کریں گے۔ ان کو اس حقیقت کی کیا خبر؟ غرض جس کام میں ریا کاری کا ذرہ بھی ہو وہ ضائع جاتا ہے۔اس کی وہی مثال ہے جیسے ایک اعلیٰ قسم کے عمدہ کھانے میں کتا منہ ڈال دے۔ آج کل بھی یہ مرض بہت پھیلا ہوا ہے اور اکثر امور میں ریا کاری کی ملونی ساتھ ہوتی ہے۔ پس اعمال میں یہ ملونی ہونی نہ چاہیے۔ اصل میں انسان ایک حد تک معذور بھی ہے کہ ملونی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے کیونکہ مکمل تو ہے نہیں۔ جب تک اسے نفسِ مطمئنہ حاصل نہ ہو جائے اور کسی کی لعن طعن کی پروانہ کرے۔ اس کے اعمال میں ایسا اخلاص ہو جائے کہ