ملفوظات (جلد 10) — Page 331
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۱ جلد دہم اشاعت دین کے لئے سامان مہیا کر دیئے اور حقیقتاً سچی بات یہی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شمار کرنا چاہیں تو ہر گز ممکن نہیں کہ اس خدا کی مہربانیوں اور احسانوں کا شمار کر سکیں ۔ اس کے انعامات ہر دو روحانی اور جسمانی رنگ میں محیط ہیں اور جیسا کہ وہ سورہ فاتحہ میں جو کہ سب سے پہلی سورہ ہے اور تمام قرآن شریف اسی کی شرح اور تفسیر ہے اور وہ پنجوقت نمازوں میں بار بار پڑھی جاتی ہے اس کا نام ہے رب العالمین یعنی ہر حالت میں اور ہر جگہ پر اسی کی ربوبیت سے انسان زندگی اور ترقی پاتا ہے اور اگر نظر عمیق سے دیکھا جاوے تو حقیقت میں انسانی زندگی کا بقا اور آسودگی اور آرام، راحت و چین اسی صفت الہی سے وابستہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی صفت رحمانیت کا استعمال نہ کرے اور دنیا سے اپنی رحمانیت کا سایہ اٹھا لے تو دنیا تباہ ہو جاوے۔ پھر اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا نام رحمن اور رحیم رکھا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن اور رحیم میں فرق بیان کر دوں ۔ رحمن اور رحیم میں فرق سویا درکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کا نام جو بغیر کسی عوض یا انسانی عمل محنت اور الرحمن سواد رکھنا چاہیے کہ ار کوشش کے انسان کے شامل حال ہوتی ہے رحمانیت ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے نظام دنیا (بقیہ حاشیہ ) فرمایا۔ کھانے کا وقت گذرا جاتا ہے چاہو تو میں اپنی تقریر بند کر دوں مگر سب نے یہی کہا کہ یہ کھانا تو ہم روز کھاتے ہیں ۔ ہمیں روحانی غذا کی ضرورت ہے۔ چنانچہ تقریر ایک بجے ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر چیف کورٹ کی مساعی جمیلہ کو مشکور کریں جنہوں نے اپنے دوستوں کے لیے حضور سے نیاز حاصل کرنے اور ان کے کلمات طیبات سننے کا یہ موقع دعوت کے رنگ میں نکال دیا ۔ ( بدر جلدی نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ ء صفحه (۳) ا بدر سے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا (ابراهيم : ۳۵) ( بدر جلدے نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ ء صفحه (۳)