ملفوظات (جلد 10) — Page 312
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۲ جلد دہم وہ اپنے اندر ہی اندر ایک قسم کا احساس پاتا ہے کہ میں نے نیکی کی اور اچھا کام کیا۔ انسان کا دل اور کانشنس نور ایمان ہر کام کے وقت اس کو معلوم کرا دیتا ہے کہ آیا اس نے ثواب کیا یا گناہ کیا ؟ شیطان کے لئے یہ یا د رکھنا چاہیے کہ انسان کی سرشت اور بناوٹ میں دوقو تیں رکھی گئی شیطان ہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور یہ اس واسطے رکھی گئی ہیں کہ انسان ان کی وجہ سے آزمائش اور امتحان میں پڑ کر بصورت کامیابی قرب الہی کا مستحق ہو۔ ان دوقوتوں میں سے ایک قوت نیکی کی طرف کھینچتی ہے اور دوسری بدی کی طرف بلاتی ہے۔ نیکی کی طرف کھینچنے والی قوت کا نام ملک یا فرشتہ ہے اور بدی کی طرف بلانے والی قوت کا نام شیطان یا بالفاظ دیگر یوں سمجھ لو کہ انسان کے ساتھ دو قو تیں کام کرتی ہیں ۔ ایک داعی خیر اور دوسری داعی شر ۔ اگر کسی کو شیطان اور فرشتہ کا لفظ گراں گذرتا ہے تو یوں ہی سمجھ لے انسان میں دوقوتوں سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ خدا نے کسی بدی کا کبھی ارادہ نہیں کیا۔ خدا نے جو کیا خیر ہی خیر کیا ہے۔ دیکھو! اگر دنیا میں گناہ کا وجود نہ ہوتا تو نیکی بھی نہ ہوتی ۔ نیکی گناہ سے پیدا ہوتی ہے۔ گناہ کے وجود سے ہی نیکی کا وجود پیدا ہوتا ہے۔ دیکھو ! اگر کسی کو زنا کا موقع ملتا ہے اور اس میں طاقت بھی موجود ہے اور پھر وہ گناہ سے بچتا ہے تو اس کا نام نیکی ہے۔ اگر کسی کو چوری اور ظلم وغیرہ گناہ کے مواقع ملتے ہیں اور پھر وہ اس کے کرنے پر قادر بھی ہو۔ بایں ہمہ وہ ان کا ارتکاب نہ کرے اور اپنے آپ کو بچاوے تو وہ نیکی کرتا ہے۔ گناہ کا موقع اور قدرت پا کر گناہ نہ کرنا یہی ثواب اور نیکی ہے۔ سوال ۔ دنیا میں دو مختلف طاقتیں کام کرتی ہیں ۔ مثبت اور منفی ۔ اگر ہم ہمیشہ مثبت سے کام لیتے رہیں اور منفی سے کام نہ لیں تو ایک دن ایسا ہو گا کہ منفی آہستہ آہستہ جمع ہو کر زور پکڑ جاوے گی اور کسی وقت یک دفعہ پھوٹ کر دنیا کو تباہ کر دے گی۔ یہی حال نیکی اور بدی کا ہے اگر تمام دنیا میں نیکی ہی نیکی کی جاوے اور کوئی بدی نہ کرے تو اس طرح ایک دن بدی زور پکڑ کر دنیا کو تباہ کر دے گی ۔ جواب۔ فرمایا۔ دیکھو! اگر ایک شخص چلا کر بولنے پر قادر ہی نہیں تو اس کا نرمی سے بولنا اخلاق فاضلہ میں سے نہیں سمجھا جاوے گا۔ اگر انسان ہمیشہ ایک ہی حالت پر قائم رہتا اور دوسرا پہلو بدل ہی