ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 270

ملفوظات حضرت مسیح موعود ٢٧٠ جلد دہم ان لوگوں کے سامنے آموجود ہوا تھا اور انہوں نے خدا کے جلال اور جبروت کو دیکھ کر گناہ سوز زندگی اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی تھی ۔ اب پھر وہی وقت ہے اور ویسا ہی خدا تعالیٰ پر زندہ ایمان پیدا کرنے کی ضرورت زمانہ۔ پس اس وقت بھی خدا کی ہستی کا یقین اسی ذریعہ سے ہوگا جس ذریعہ سے ابتدا میں ہوا تھا۔ اسلام وہی اسلام ہے لہذا اس کی کامیابی اور سرسبزی کے بھی وہی ذرائع ہیں جو ابتدا میں تھے ۔ اب بھی ضرورت ہے تو اس بات کی کہ خدا کے چہرہ نما ہیبت ناک اقتداری نشانات ظاہر ہوں اور یقین جانو کہ کوئی شخص گناہ سے نہیں پاک ہو سکتا جب تک خدا کی معرفت کامل نہ ہو۔ یہ گناہ اور طرح طرح کے معاصی جو چاروں طرف دنیا میں بھرے پڑے ہیں ان کے دور کرنے کے واسطے صرف خشک ایمان کافی نہیں ۔ کیا وہ خوفِ خدا جیسا کہ چاہیے دنیا میں موجود ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ اصل میں انسان نفس اتارہ کی زنجیروں میں ایسا جکڑا ہوا ہے ۔ جیسے کوئی چڑیا کا بچہ ایک شیر کے پنجے میں ۔ جب تک اس نفس کے پنجے سے نجات نہ پا جاوے تب تک تبدیلی محال ہے اور گناہ سے بچنا مشکل ۔ مگر دیکھو! اگر ابھی ایک ہیبت ناک زلزلہ آجاوے اور درو دیوار اور مکان کا چھت لرزنے لگے تو دلوں پر ایک ایسی ہیبت طاری ہوگی اور ایسا خوف دلوں پر چھا جائے گا کہ اس وقت گناہ کا خیال تک بھی دلوں میں نہ رہے گا۔ ایک خطرناک مہلک مرض کے وقت جو حالت انسان کی ہوتی ہے۔ وہ امن اور آرام و آسائش کی زندگی میں ہر گز ممکن نہیں ۔ - - انسان اپنی حالت میں تبدیلی پیدا کرنے کے واسطے خدا تعالیٰ کی تجلیات اور زبردست نشانوں کا محتاج ہے۔ ضروری ہے کہ خدا کوئی ایسی راہ پیدا کر دے کہ انسان کا ایمان خدا پر تازہ اور پختہ ہو جاوے اور صرف زبان تک ہی محدود نہ رہے بلکہ اس ایمان کا اثر اس کی عملی حالت پر بھی ظاہر ہو جاوے اور اس طرح سے انسان سچا مسلمان ہو جاوے ۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں الہاماً