ملفوظات (جلد 10) — Page 259
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۹ جلد دہم فرمایا کہ قربان جائیے ایسے کفر کے جو اسلام کی صداقت کے زبردست نشانات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا باعث ہو۔ پس یا درکھو کہ دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی غریب۔ مسافر گٹھڑی باندھے سفر کو تیار بیٹھا ہوتا ہے۔ دنیا کے بہت سے فکر اپنے ذمے ڈال لینے ٹھیک نہیں ہوتے ۔ دیکھو دنیا میں طرح طرح کے آفات کیسے خطرناک حملے کر رہے ہیں طاعون ہے، زلزلے ہیں ، قحط ہے، ان کے علاوہ اور سینکڑوں آفات ارضی و سماوی ہیں ۔ ان کے ہوتے ہوئے انسان مطمئن کیسے ہو سکتا ہے؟ دیکھو! یہی طاعون یہ بھی ہماری صداقت کا ایک زبردست نشان ہے ۔ ہم نے اللہ تعالیٰ سے وحی پا کر اس مرض کی خبر اس وقت دی تھی جبکہ پنجاب میں اس کا نام و نشان بھی نہ تھا اور یہ کوئی ہمارا صرف زبانی دعوی نہیں بلکہ بار بار ہم نے اس کے متعلق اپنی کتابوں اور سلسلہ کے اخباروں میں لکھ کر دنیا کو اطلاع دی تھی کہ خطرناک طاعون ملک میں پھیلنے والا ہے ۔ ہر ایک کو چاہیے کہ قبل اس کے کہ وہ وارد ہو جاوے تو بہ استغفار میں مصروف ہو جاؤ اور اپنے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کر لو مگر بہت تھوڑے تھے جنہوں نے ہماری بات کو سچا جانا اور اس کی طرف توجہ کی ۔ ہم نے دیکھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں بعض لوگ سیاہ رنگ کے درخت لگارہے تھے۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ درخت طاعون کے ہیں اور پھر ایک ہاتھی کا سا جانور جس کے اعضا مختلف حیوانات سے مشابہ تھے اور مجموعی شکل ہاتھی سے مشابہ تھی ، دیکھا کہ وہ ہاتھی ایک بن میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر مختلف سمتوں میں جاتا تھا اور مختلف قسم کے جنگلی جانوروں مثل ہرن، بکری، سانپ ، خرگوش وغیرہ وغیرہ پر حملہ کرتا اور ان کو کھا جاتا۔ جب وہ حملہ کرتا تو جانوروں کے شوروغل سے ایک قیامت کا شور بپا ہو جاتا اور اس کے ہڈیوں وغیرہ کے چبانے کی آواز ہم سنتے تھے ایک طرف سے فارغ ہو کر وہ ہمارے پاس آجاتا اور اس کے چہرہ سے بڑے حلم اور غربت کے آثار نمایاں تھے اور گویا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ زبانِ حال سے کہتا ہے کہ میرا اس میں کیا قصور ہے میں تو مامور ہوں ۔ مجھے جو حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کرتا ہوں۔ تھوڑی دیر ہمارے پاس ٹھہرنے کے بعد پھر دوسری طرف جاتا اور وہاں بھی پہلے کی طرح عمل کرتا